اسلام کا اقتصادی نظام — Page 22
سلام کا اقتصادی نظام سورتیں اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ والی سورۃ سے بھی پہلے کی ہیں۔اُن کی بنائے استدلال یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے جب کہا اقرا یعنی پڑھ۔تو بہر حال اس سے پہلے کوئی چیز موجود ہونی چاہئے تھی جس کو پڑھنے کا حکم دیا جاتا۔اسلامی تاریخ کے لحاظ سے بھی یہ نہایت ابتدائی سورتیں ہیں اور میور کے خیال کے لحاظ سے تو یہ اتنی ابتدائی سورتیں ہیں کہ رسول کریم صلی یا ایم کے دعوئی سے بھی پہلے کی ہیں۔ان چارسورتوں کو جب ہم دیکھتے ہیں تو ان میں سے تین میں غرباء کی خبر گیری کو نجات اور ترقی قومی کیلئے ضروری قرار دیا گیا ہے۔لوگوں کو غرباء کی خبر گیری اور اُن کی خدمات پر اُبھارا گیا ہے اور اُمراء کو اپنی اصلاح کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔چنانچہ سورۃ البلد میں آتا ہے يَقُولُ أَهْلَكْتُ مَالاً تبَدًا أَيَحْسَبُ أَنْ لَّمْ يَرَةً أَحَدٌ أَلَمْ نَجْعَل لَّهُ عَيْنَيْنِ وَلِسَانًا وَشَفَتَيْنِ۔وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ فَكُ رَقَبَةٍ أَوْ إِطْعَامُ فِي يَوْمٍ ذِى مَسْغَبَةٍ يَّتِيمًا ذَا مَقْرَبَةٍ أَوْ مِسْكِيْنًا ذَا مَثْرَبَةٍ ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ فرماتا ہے ہر مالدار دنیا میں کہتا ہے کہ أَهْلَكْتُ مَالًا لبدائیں بڑا مالدار آدمی ہوں میں نے بڑا روپیہ دنیا میں خرچ کیا ہے۔ہزاروں نہیں لاکھوں بلکہ کروڑوں روپیہ میں خرچ کر چکا ہوں۔لبدا کے معنی ڈھیروں ڈھیر کے ہوتے ہیں۔ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا ڈھیر میں خرچ کرتا چلا گیا اور میں نے روپیہ کی کچھ پرواہ نہ کی اب بتاؤ مجھ سے زیادہ اور کون شخص اس بات کا مستحق ہے کہ اُسے عزت دی جائے اور اُسے پبلک میں عظمت اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جائے۔اس کے بعد خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔أَيَحْسَبُ أَن لَّمْ يرة أحد کیا وہ نادان یہ خیال کرتا ہے کہ مجھے دیکھنے والا دنیا میں کوئی موجود نہیں ! وہ دعوتیں 22