اسلام کا اقتصادی نظام — Page 16
قائل نہیں کہ نظام اور آئین کو نظر انداز کر کے جو راستہ بھی سامنے نظر آئے اُس پر چلنا شروع کر دیا جائے۔غیر آئینی نظام والوں کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے جنگل میں آپ ہی آپ جو بوٹیاں اُگ آتی ہیں انہیں کھانا شروع کر دیا جائے۔مگر اسلام کی مثال اُس شخص کی طرح ہے جو باقاعدہ ایک باغ لگا تا، اُس کی آبپاشی کرتا اور اُس کے پودوں کی نگرانی رکھتا ہے۔وہ جانتا ہے کہ کونسی چیز مجھے اس باغ میں رکھنی چاہئے اور کونسی چیز نہیں رکھنی چاہئے۔اسلام کی اقتصادی تعلیم کا ماحول میں نے اوپر جو ماحول اسلام کی تعلیم کا بیان کیا ہے وہ ماحول اسلام کی اقتصادی تعلیم کیلئے بھی ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر اسلام کی اقتصادی تعلیم دنیا میں کامیاب نہیں ہو سکتی چونکہ اس ماحول کا اسلام کی اقتصادی تعلیم کے ساتھ ایک گہرا تعلق تھا اس لئے ضروری تھا کہ میں اسے بیان کرتا اور بتاتا کہ کس ماحول میں اسلام نے دنیا کے سامنے ایک مفید اور اعلیٰ درجہ کا اقتصادی نظام رکھا ہے۔بہر حال جیسا کہ میں نے بتایا ہے اسلام غیر آئینی نظام کو تسلیم نہیں کرتا البتہ دوسرے دو نظاموں کے درمیان ایک راستہ پیش کرتا ہے مگر بنیادی اصول اسلام کے اقتصادیات کا ، ان ہی پہلے حقائق پر قائم ہے جن کو اوپر بیان کیا جا چکا ہے۔اموال کے متعلق اسلام کا اقتصادی نظریہ اسلام کا اقتصادی نظریہ اموال کے متعلق یہ ہے۔فرماتا ہے۔هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِي الأَرْضِ جَمِيعاً لا یعنی جس قدر چیزیں دنیا میں پائی جاتی ہیں وہ سب کی سب خدا تعالیٰ نے بنی نوع انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کی ہیں۔اگر تمہیں دنیا میں پہاڑ 16