اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 111 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 111

ممانعت کا کوئی ذکر نہیں۔اور یہ بات مجھے اس بات کا دعوی کرنے کا حق دیتی ہے کہ کمیونزم شود کی اصولی طور پر مخالف نہیں۔پھر میں دیکھتا ہوں کہ روسی گورنمنٹ دوسری حکومتوں سے جو سود کے بغیر کوئی کام نہیں کرتیں روپیہ قرض لیتی ہے اس امر سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کمیونزم سود کی مخالف نہیں ہے بلکہ اس کے حق میں ہے۔کیونکہ اگر وہ سُود کے حق میں نہ ہوتی تو سود پر رقوم قرض کیوں لیتی۔نیز موجودہ جنگ میں روس نے اپنے ملکی لوگوں سے بھی بہت روپیہ قرض لیا ہے۔میں قیاس کرتا ہوں کہ یہ رو پی بھی شود پر ہی لیا گیا ہے۔اگر میری یہ رائے درست ہے کہ کمیونزم شود کے خلاف نہیں بلکہ اس کے حق میں ہے اور بہت سے واقعات میری رائے کی تائید کرتے ہیں تو یہ امر بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ روس میں سودی کاروبار کی کمی محض ایک وقتی امر ہے اور سابق نظام میں ایک غیر معمولی تغیر کا نتیجہ ہے لیکن جب کمیونسٹ لوگ روس سے باہر جانے لگیں گے تو وہاں کا روبار کے لئے وہ سود پر روپیہ لیں گے اور جب ملک زیادہ ترقی کرے گا اور صنعت وحرفت اور زراعت ترقی کریں گے تو یورپ کی دوسری اقوام کی طرح کمیونسٹ بھی ان کاموں کی ترقی کے لئے سود کا کاروبار کریں گے۔اسی طرح جنگوں کو کامیاب طور پر چلانے اور وسیع صنعتی ترقی کے لئے سٹیٹ بنک کی شاخیں ملک میں کثرت سے کھولی جائیں گی اور آخر شود اُسی طرح کمیونزم کو کیپٹلزم کی طرف لے جائے گا جس طرح دوسرے مغربی ممالک کو لے گیا ہے۔(۶) چھٹا نقص کمیونسٹ اقتصادی نظام کا جس کی وجہ سے کیپٹلزم کچلا نہیں جا سکتا یھینچ (EXCHANGE) کے طریق کا جواز ہے۔وہی تبادلۂ سکہ کا طریق جو بنکوں کی وجہ سے اور حکومتوں کے تداخل کی وجہ سے اس زمانہ میں جاری ہوا ہے کمیونزم بھی اُسی کی تائید کرتا ہے اور اُسی کے مطابق عمل کرتا ہے۔موجودہ زمانہ میں ایکسچینج ریٹ ( یعنی دو ملکوں 111۔