اسلام کی کتب (پانچویں کتاب) — Page 59
دونوں باتوں کا خیال رکھنا چاہیئے۔(۸) آپ انسان کی اخلاقی طاقتوں کے متعلق یہ تعلیم دیتے تھے کہ سب انسان پاک فطرت لیکر پیدا ہوتے ہیں۔اور جو خرابی پیدا ہوتی ہے وہ پیدائش کے بعد نمایا تعلیم یا تربیت سے پیدا ہوتی ہے۔پس آپ بچوں کی نیک تربیت اور اعلی تعلیم پر خاص طور پر زور دیتے تھے۔(۹) آپ اس امر پر بھی زور دیتے تھے کہ اخلاق کی اصل غرض انسان کی اپنی اور دوسرے لوگوں کی اصلاح ہے۔پس اخلاق فاضلہ وہی ہیں جن سے انسان کا نفس اور دوسرے لوگ پاکیزگی حاصل کریں۔پس آپ کبھی ایک تعلیم پر زور نہیں دیتے تھے۔بلکہ ہمیشہ ہر چیز کے سب پہلوؤں کو بیان کرتے تھے۔مثلاً یہ نہیں کہتے تھے کہ نرمی کرو۔عفو کرو۔بلکہ یہ فرماتے تھے کہ جب کوئی شخص تم کو تکلیف دے تو یہ سوچو کہ اس شخص کی اصلاح کس بات میں ہے۔اگر وہ شخص شریف الطبع ہے اور معاف کرنے سے آئندہ ظلم کی عادت کو چھوڑ دے گا۔اور اس نمونہ سے فائدہ حاصل کرے گا۔تو اسے معاف کر دو۔اور اگر یہ دیکھو کہ وہ شخص بہت گندہ ہو چکا ہے۔اور اگر تم اسے معاف کرو گے تو وہ یہ سمجھ لے گا کہ اس شخص نے مجھ سے ڈر کر مجھے سزا نہیں دی یا نہیں دلوائی۔اور اس وجہ سے وہ بدی پر دلیر ہو جائے گا۔اور اور لوگوں کو بھی دُکھ دے گا۔تو اسے اس کے جرم کے مطابق سزا دو کیونکہ ایسے شخص کو معاف کرنا دوسرے نا کردہ گناہ [59]