اسلام کی کتب (پانچویں کتاب) — Page 60
لوگوں پر ظلم ہے۔جو ایسے شخص کے ہاتھ سے تکلیف اٹھارہے ہیں یا آئندہ اٹھا سکتے ہیں۔(۱۰) آپ کی یہ بھی تعلیم تھی کہ کبھی کسی دوسری حکومت پر حملہ نہیں کرنا چاہیئے بلکہ جنگ صرف بطور دفاع کے جائز ہے۔اور اُس وقت بھی اگر دوسرا فریق اپنی غلطی پر پشیمان ہو کر صلح کرنا چاہے تو صلح کر لینی چاہیئے۔(11) آپ کی یہ بھی تعلیم تھی کہ انسان کی روح مرنے کے بعد ترقی کرتی چلی جائے گی۔اور کبھی فنانہ ہوگی۔حتی کہ گنہ گار لوگ بھی ایک مذت اپنے اعمال کی سزا بھگت کر خدا کے رحم سے بخشے جائیں گے۔اور دائی ترقی کی سڑک پر چلنے لگیں گے۔اہل مکہ نے جب دیکھا کہ مدینہ میں آپ کو اپنی تعلیم کے عام طور پر پھیلانے کا موقعہ مل گیا ہے۔اور لوگ کثرت سے اسلام میں داخل ہونے لگے ہیں۔تو انہوں نے متواتر مدینہ پر چڑھا ئیاں کرنی شروع کیں۔مگر ان لشکر کشیوں کا نتیجہ بھی اُن کے حق میں بُرا نکلا۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے بھی برتری ثابت ہوئی۔کیونکہ گو بڑی بڑی تیاریوں کے بعد مکہ والوں نے مدینہ پر حملہ کیا۔اور مسلمان ہر دفعہ تعداد میں اُن سے کم تھے۔عموما ایک مسلمان تین ۳ اہل مکہ کے مقابلہ پر ہوتا تھا۔مگر پھر بھی غیر معمولی طور پر خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح دی۔اور اہل مکہ کو شکست ہوئی۔بعض دفعہ بے شک مسلمانوں کو عارضی تکلیف بھی پہنچی۔مگر حقیقی معنوں میں کبھی شکست نہیں ہوئی۔[60]