اسلام کی کتب (پانچویں کتاب)

by Other Authors

Page 36 of 103

اسلام کی کتب (پانچویں کتاب) — Page 36

قضاء با وجود کثیر احتیاط ، نرمی بصبر اور حسن سلوک کے بار ہا لوگوں کے آپس میں تنازعات اور مقدمات بر پا ہو جاتے ہیں۔اگر ان تنازعات کا تصفیہ نہ ہو تو بہت خرابی پیدا ہو جاتی ہے۔اس لئے اسلام نے لوگوں کے باہمی تنازعات کا فیصلہ کرنے کے لئے ایک محکمہ عدالت قائم کیا ہے جس کا نام قضاء ہے۔ہر شخص کا فرض ہے کہ اگر اس کا اپنے کسی بھائی کے ساتھ تنازعہ ہو جائے تو وہ بجائے اس کے کہ خود فیصلہ کرے قضاء میں دعوی کرے۔قاضی ( منصف ) جو فیصلہ کرے خواہ وہ غلط ہو یا سی ہر شخص پر اس کا قبول کرنا اور اس کے مطابق عمل کرنا فرض ہے۔مقدمات میں یہ ضروری ہے کہ جو شخص مدعی ہو وہ اپنی طرف سے ثبوت پیش کرے اگر وہ ثبوت پیش نہ کر سکے اور مدعی علیہ انکاری ہو تو مدعی علیہ سے قسم لی جائے۔ثبوت کے لئے جو گواہ پیش کئے جائیں وہ کم سے کم دو عاقل بالغ اور قابل اختبار مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں ہونی چاہئیں۔جھوٹے اور فاسق گواہوں کی شہادت قبول کرنے کا حکم نہیں۔اگر کوئی شخص گواہی کے لئے بلایا جائے تو اس کا فرض ہے کہ صاف صحیح اور [36]