اسلام کی کتب (پانچویں کتاب) — Page 37
سچی گواہی دے۔اور فریقین کا بھی فرض ہے کہ وہ گواہوں کو خواہ مخواہ تنگ نہ کریں۔کیونکہ اگر کوئی بات کسی کے خلاف ہو تو گواہ کا کیا قصور ہے؟ اس نے تو جو دیکھا ہے وہی بیان کرنا ہے۔قاضیوں کے لئے کسی کے متعلق سفارش وغیرہ قبول کرنا، کسی کی رعایت کرنا، کسی سے رشوت لینا، فریقین میں سے کسی سے کچھ ہدیہ وغیر ہ لینا سب منع ہیں۔ان کا فرض ہے کہ ہر حال میں عدل کریں۔اور لوگوں کے حقوق ان کو دلوائیں۔حدود بعض جرائم مثلا قتل، ضربات شدید، زنا یا کسی پر زنا کی جھوٹی تہمت اور چوری وغیرہ ایسے جرائم ہیں کہ ان کی سزائیں اسی دنیا میں دی جاتی ہیں۔ان سزاؤں کو جو ایسے جرائم کی پاداش میں اسی دنیا میں دی جاتی ہیں حدود کہتے ہیں۔یہ سزائیں دنیا میں ہر شخص کے اختیار میں نہیں بلکہ حکومت کے اختیار میں ہیں۔کسی شخص کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی مجرم کو اس لئے خود سزاد دینا شروع کر دے کہ شریعت نے اس کے لئے یہ سزا مقرر کی ہے۔اگر کوئی شخص ایسا کرے گا تو اس کو سزا دی جائے گی کیونکہ اس نے قانون حکومت کو اپنے ہاتھ میں لیا اور وہ کام کیا جس کا وہ اہل نہ تھا۔[37]