اسلام کی کتب (پانچویں کتاب) — Page 72
اگز ہرانے سے ہوئی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں۔حضرت فاطمتہ الزہراء سے شادی کے بعد آپ نے ابو جہل کی لڑکی سے شادی کرنی چاہی تو آپ نے فرمایا کہ میری لڑکی کو طلاق دے دو۔کیونکہ عدو اللہ ( اللہ کے دشمن ) اور حبیب اللہ ( خدا کے دوست ) دونوں کی لڑکیاں ایک آدمی کے ماتحت نہیں رہنی چاہئیں۔اس پر آپ نے شادی نہ کی۔حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ نے ابو جہل کی لڑکی سے شادی کی جبکہ حضرت فاطمۃ الزہراء فوت ہو چکی تھیں۔ان کی زندگی میں آپ نے کسی اور عورت سے شادی نہیں کی۔حضرت فاطمۃ الزہراہ سے آپ کے چار بچے حضرت حسن حضرت حسین۔حضرت زینب گبری۔حضرت اُم کلثوم گبری پیدا ہوئے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک آپ کا بہت بڑا رتبہ تھا۔چنانچہ احادیث میں آپ کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مندرجہ ذیل ارشادات درج ہیں۔جن سے آپ کے علو مرتبت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔فرمایا:- لَا يُحِبُّ عَلِيًّا مُنَا فِقٌ وَلَا يُبْغِضُهُ مُؤْمِن ترندی) اور فرمایا مَنْ سَبِّ عَلِيًّا فَقَدْ سَبَّنِي ( ترمذی ) اور فرمایا میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔کوئی منافق ایسا نہیں جو حضرت علی سے محبت رکھتا ہو اور کوئی مومن نہیں جو اُن سے بغض رکھتا ہو۔ے جس نے حضرت علی کو بُرا کہا اُس نے مجھے برا کہا۔[72]