اسلام کی کتب (پانچویں کتاب)

by Other Authors

Page 73 of 103

اسلام کی کتب (پانچویں کتاب) — Page 73

جب حضرت عثمان کی شہادت کے بعد آپ خلیفہ ہوئے تو حضرت طلحہ حضرت زبیر اور حضرت عائشہ اور آپ کے ساتھیوں نے مل کر حضرت عثمان کے قاتلوں کا مطالبہ کیا۔تا وہ اُن سے حضرت عثمان کا بدلہ لیں۔مگر حضرت علی کرم اللہ وجہ اس خیال میں اُن سے متفق نہ تھے۔کیونکہ وہ اپنے آپ کو معذور کھتے تھے۔آخر کار بصرہ کے مقام پر فریقین کی سخت لڑائی ہوئی۔اس لڑائی کو جنگ جمل کہتے ہیں۔جس میں دس ہزار آدمی اور حضرت طلحہ اور حضرت زبیر قتل ہوئے۔اس کے بعد حضرت علی اور امیر معاویہ کے لشکر مقام صفین پر جمع ہوئے۔اور کسی جنگ ہوئے بغیر آپس میں صلح ہوگئی۔اس کے بعد خوارج نے بغاوت کی۔اُن سے آپ نے کئی جنگیں کیں۔اسی دوران میں عمر و بن العاص نے ایک چال کھیل کر آپ کو معلول قرار دیا اور معاویہ کوخلیفہ بنا دیا۔جس کی تفصیل یہ تھی :- جنگ صفین میں حضرت علی کا پلہ بھاری تھا۔مگر عمرو بن العاص کے مشورہ سے حضرت معاویہ کی فوج نے قرآن نیزوں پر بلند کر دیا۔اس لئے حضرت علیؓ کی فوج قرآن کریم کو دیکھ کر جنگ سے رُک گئی۔حضرت علی نے اپنی فوج کو بہتیرا سمجھایا کہ یہ تمہیں دھوکہ دیا جارہا ہے۔اور یہ ایک چالا کی ہے۔جو تمہارے ساتھ کھیلی جا رہی ہے۔وہ قرآن صامت ہے اور میں قرآن ناطق ہوں۔اس کے بعد فسادزیادہ بڑھ گیا۔اور مفسد وں نے آپ کے قتل کی ٹھان لی۔[73]