اسلام کی کتب (پانچویں کتاب) — Page 21
اس نے میرے مسکین بندے پر احسان کیا اور اس کے مال میں ترقی دیتا ہے۔قرض کے لئے یہ شر ما ضروری ہے کہ جب کوئی شخص کسی سے قرض لے تو وہ تحریر کرلیں اور دو گواہ بنالیں اور ساتھ ہی مدت مقرر کر لیں کہ فلاں وقت تک یہ رو پیدا دا کر دیا جائے گا۔بغیر لکھنے اور لکھوانے کے قرض لینا یا دینا درست نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر قرآن شریف میں حکم دیا ہے کہ قرضہ لیتے یا دیتے وقت تم ضرور تحریر کر لیا کرو، دوستی، عزت یا اعتبار کا اس میں کوئی سوال نہیں۔قرض لینے کے لئے اپنی کوئی چیز مثلاً مکان یاز مین وغیرہ رہن رکھنا بھی جائز ہے بشرطیکہ اس کا قبضہ بھی مرتبہن کو دے دیا جائے۔اگر قبضہ نہ دیا جائے تو یہ رہن جائز نہیں۔قرض وصول کرنا اگر وقت مقررہ پر قرض وصول نہ ہو سکے تو دیکھنا چاہیئے کہ مقروض نے عمدا ادا نہیں کیا یا اس میں ابھی ادا کرنے کی توفیق نہیں؟ اگر اس وقت اس میں ادا کرنے کی توفیق نہ ہو تو پھر اسے کچھ مہلت دے دینی چاہیے تا کہ وہ رو پید ادا کردے کیونکہ یہ مناسب نہیں کہ ایک احسان مند [21]