اسلام کی کتب (پانچویں کتاب) — Page 82
رائے مومنین حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ۔اور حضرت علی رضی اللہ عنہ خُلفاء مقرر ہوئے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد آپ کی پیشنگوئیوں کے مطابق باتفاق رائے مومنین حضرت خلیفة المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ اور آپ کی وفات کے بعد 1910ء سے حضرت میرزا بشیر الدین محمد احمدخلیفہ اسی الثانی قرار پائے۔حضرت خلیفہ اسیح الله نی جو حُسن واحسان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نظیر ہیں۔جماعت احمدیہ کے لئے ایک نہایت ہی بابرکت وجود ہیں۔جماعت احمدیہ کی موجودہ ترقی (اس وقت دس اور پندرہ لاکھ کے درمیان تعداد ہے) اور جماعت کی تنظیم ( کہ اس وقت اسے با قاعدہ انجمنیں قائم ہیں )۔اور ان کا ۱۳ لاکھ روپیہ سالانہ بجٹ ہے۔یہ سب آپ ہی کی برکت اور آپ کا ہی قابل تعریف کام ہے۔جس وقت آپ مسند خلافت پر متمکن ہوئے اس وقت ایسا انتظام اور کام نہ تھا۔آپ کی خلافت سے قبل ہندوستان سے باہر غیر ممالک میں کوئی مشن نہ تھا، سوائے لندن مشن کے۔مگر اس وقت خدا تعالیٰ کے فضل سے نہ صرف پینتالیس مشن ہی غیر ممالک یعنی انگلستان - شمالی امریکہ مغربی افریقہ۔مشرقی افریقہ بلاد عربیہ۔جزائر شرق الہند۔ماریشس میں باقاعدہ کام کر رہے ہیں۔[82]