اسلام کی کتب (پانچویں کتاب) — Page 66
آپ کے پاس آ گیا۔اور جو سواری کو نہ موڑ سکا وہ سواری سے گو دکر پیدل دوڑ پڑا۔جو یہ بھی نہ کر سکا اس نے سواری کوقتل کر دیا اور آپ کی طرف دوڑ پڑا۔اور چند ہی منٹ میں سب لوگ اسی طرح آپ کے گرد جمع ہو گئے جس طرح کہ کہتے ہیں کہ مُردے اسرائیل کے طور (انگل ) پر قبروں سے اُٹھ کھڑے ہوں گے۔آپ گڑائی میں ہمیشہ تاکید کرتے تھے کہ مسلمان کبھی پہلے خود حملہ نہ کرے۔ہمیشہ دفاعی طور پر لڑے اور یہ کہ عورتوں کو نہ ماریں بچوں کو نہ ماریں پادریوں کو نہ ماریں۔بوڑھے اور معذوروں کو نہ ماریں۔جو ہتھیار ڈال دیں ان کو نہ ماریں درخت نہ کاٹیں عمارتیں نہ گرائیں قصبوں اور گاؤں کو نہ ٹوٹیں اور اگر آپ کو معلوم ہوتا کہ کسی نے ایسی غلطی کی ہے تو اس پر سخت ناراض ہوتے۔جب اللہ تعالی نے آپ کو اہل مکہ پر فتح دی تو مکہ کے لوگ کانپ رہے تھے کہ اب نہ معلوم ہمارے ساتھ کیا سلوک ہوگا ؟ مدینہ کے لوگ جنہوں نے خود اُن تکلیفوں کو نہ دیکھا تھا جو آپ کو دی گئیں مگر دوسروں سے سنا تھا وہ آپ کی تکلیف کا خیال کر کے ان لوگوں کے خلاف جوش میں بھرے ہوئے تھے مگر جب آپ مکہ میں داخل ہوئے سب لوگوں کو جمع کیا اور کہا کہ اے لوگو ! آج میں اُن سب قصوروں کو جو تم نے میرے حق میں کئے ہیں معاف کرتا ہوں تم کو کوئی سز انہیں دی جائے گی۔اگر جنگیں نہ ہوتیں اور آپ کو بادشاہت نہ ملتی تو آپ کامل نمونہ کس طرح [66]