اسلام کی کتب (پانچویں کتاب) — Page 42
زمین سے اونچا کر دینا چاہئیے اور اونٹ کے کو ہان کی مانند بنادینا چاہیئے اس کے بعد میت کے لئے دعائے خیر کر کے واپس آ جانا چاہیئے۔میت کے لئے نوحہ (سیاپا ) کرنا یا بلند آواز سے رونا پیٹنا کپڑے وغیرہ پھاڑ ڈالنا یا کوئی اور خلاف سنت کام کرنا مثلا فاتحہ خوانی ، قبل خوانی یا تیسرا، دسواں، چالیسواں وغیرہ سب منع ہیں۔میت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کرنا منع ہے ہاں اگر متوفی عورت کا خاوند ہو تو اُس عورت کے لئے ۴ مہینے ۱۰ دن سوگ ہے۔وہ اس عرصہ میں زینت وغیرہ نہ کرے۔احمدی کو غیر احمدی کا جنازہ پڑھنے سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے منع فرمایا ہے۔اس لئے کسی احمدی کو غیر احمدی کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہیے۔قبرستان میں داخل ہوتے وقت السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا هْلَ القُبُوْرِ مِنَ المسلمين وإنا إن شاء الله بكم لاحقون پڑھنا چاہیے اور قبروں پر سے نہیں گذرنا چاہئے اور نہ ہی کسی قبر پر سجدہ کرنا چاہیے۔قبرستان میں جا کے اہل قبور کے حق میں دعا کرنی چاہئیے کہ اللہ تعالیٰ ان کو مغفرت کرے اور ان کو اپنے قرب اور جنت میں جگہ دے۔ترجمہ: اے مسلمان اہل قبور ! السلام علیکم ہم بھی انشاء اللہ آ کر تم سے ملیں گے۔[42]