اسلام کی کتب (پانچویں کتاب) — Page 27
آداب خرید وفروخت خرید وفروخت سے قبل وہ چیز جو خریدی جارہی ہے اسے اچھی طرح سے دیکھ لینے کا حکم ہے خریدار کو چاہیے کہ اپنی تسلی کر لینے کے بعد چیز کو خریدے۔بغیر دیکھنے بھالنے کے خرید و فروخت منع ہے۔فروخت کرنے والے کو چاہیے کہ اگر اس کی چیز میں کوئی نقص ہو تو وہ خریدار کو پہلے بتادے تا کہ اگر خریدار کی مرضی ہو تو اس کو خریدے لیکن اگر فر وخت کرنے والا اس چیز کے نقص کو نہ بتائے تو خریدار کوحق حاصل ہے کہ وہ چیز واپس کر دے اور قیمت واپس لے لے۔خریدار کو یہ حق بھی حاصل ہے کہ اگر وہ چاہے تو یہ شرط کرلے کہ اگر یہ چیز پسند آئی تو خریدوں گا ورنہ واپس کر دوں گا۔فروخت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ ایسا مال فروخت نہ کریں جونکتا ہو اور دھوکہ کے طور پر بھی کوئی مال فروخت نہ کریں۔مثلا یہ کہ چیز محمدہ دکھا ئیں مگر ناقص دیں۔مال کی دو قیمتیں مقرر نہ کریں کہ اگر نقد لوتو یہ قیمت ہے اور اگر اُدھار لو تو یہ قیمت ہے کیونکہ یہ سود ہے یا ایسا کریں کہ ہوشیار آدمی سے کم قیمت لیں اور بچے یا ناواقف سے زیادہ قیمت لے لیں۔ہاں یہ ان کو اختیار ہے کہ کسی ذاتی تعلق والے سے کم قیمت لے لیں۔[27]