اسلام کی کتب (پانچویں کتاب) — Page 23
زراعت مومنوں کو حلال اور پاک رزق کھانے کا حکم ہے کیونکہ اگر حلال اور پاک مال نہ کھایا جائے تو نیک کام کی بھی توفیق نہیں ملتی۔مال پاک اور حلال اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب کہ خلاف شریعت طریقوں سے نہ کمایا گیا ہو۔اگر پاک مال میں ذرا سا حرام مال بھی مل جائے تو وہ سارے مال کو حرام کر دیتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ مال کماتے وقت نہایت احتیاط کی جائے اور ذرہ بھر مال بھی خلاف شریعت طریقوں سے نہ کمایا جائے۔زراعت میں ضروری ہے کہ جب کوئی شخص زراعت کرے تو اپنی زمین میں ہی کاشت کرے کسی دوسرے کی چپہ بھر زمین بھی نا جائز طور پر اپنی زمین میں شامل نہ کرے اور اپنی ہی کھیتی اور فصل اپنے استعمال میں لائے۔کسی دوسرے کی فصل کو بالکل نقصان نہ پہنچائے۔زمین کا مالک اپنی زمین کو بٹائی (حصہ) پر بھی دے سکتا ہے مثلاً حصہ مقرر کر لے کہ جس قدر اُس کی پیداوار ہوگی اس کے اس قدر حصے کئے جائیں گے۔اتنے حصے تمہارے ہوں گے اور اتنے حصے میرے۔اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اپنی زمین کسی کو زراعت کے لئے دیدے کہ میں سال میں تم سے اتنے روپئے لے لیا کروں گا۔[23]