اسلام کی کتب (پانچویں کتاب) — Page 11
رضاع ( دودھ پلانے ) کی مدت دو سال ہے۔اگر دو سال کے اندر کسی عورت نے کسی بچہ کو کم از کم پانچ گھونٹ دودھ پلایا ہو تب وہ اس بچے کی رضاعی ماں اور اس کی اولاد بچے کے رضاعی بھائی بہن بن جاتے ہیں اور ان سے نکاح کرنا حرام ہوتا ہے اگر دو سال کے بعد پلایا جائے تو اس سے حرمت نکاح لازم نہیں آتی۔نکاح شغار یعنی تبادلہ کا نکاح کہ ایک شخص اپنی لڑکی یا بہن کا کسی شخص سے نکاح کردے اور اس کی لڑکی یا بہن کا نکاح اپنے ساتھ کرائے اور مہر دونوں کا مقرر نہ کیا جائے بلکہ تبادلہ ہی مہر سمجھا جائے تو اسے شغار کہتے ہیں۔یہ نکاح منع ہے۔اور شریعت نے اسے حرام قرار دیا ہے۔ایک خاص وقت تک کے لئے مثلاً گھنٹہ دو گھنٹے ، رات دورات یا مہینہ دو مہینے یا سال دو سال وغیرہ تک کے لئے نکاح کرنے کو متعہ کہتے ہیں۔یہ نکاح بھی حرام ہے۔[11]