اسلام کی کتب (پانچویں کتاب) — Page 61
اور ان لشکر کشیوں کے دو نتیجے نکلے۔ایک تو یہ کہ بجائے اس کے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تباہ ہوتے آپ سارے عرب کے بادشاہ ہو گئے۔اور دوسرے یہ کہ ان لڑائیوں میں آپ کو کئی ایسے اخلاق دکھانے کا موقعہ ملا جو بغیر جنگوں سے مخفی رہتے۔اور اس سے آپ کی اخلاقی برتری ثابت ہوگئی۔اسی طرح یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ آپ نے وفاداری اور قربانی کی روح ایک مردہ قوم میں پھونک دی تھی۔چنانچہ مثال کے طور پر میں اُحد کی جنگ کا واقعہ بیان کرتا ہوں :- مدینہ آنے کے تین سال بعد کفار نے تین ہزار کا لشکر تیار کر کے مدینہ پر حملہ کر دیا۔مدینہ مکہ سے دو سو میل کے فاصلہ پر ہے۔دشمن اپنی طاقت پر ایسا نازاں تھا کہ مدینہ تک حملہ کرتا ہوا چلا آیا۔اور مدینہ سے آٹھ میل پر اُحد کے مقام پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کو روکنے کے لئے گئے آپ کے ساتھ ایک ہزار سپاہی تھے۔آپ نے جو احکام دئے اس کے سمجھنے میں ایک دستہ فوج سے غلطی ہوئی نتیجہ یہ ہوا کہ باوجود اس کے کہ مسلمانوں کو پہلے فتح ہو چکی تھی دشمن پھر لوٹ پڑا۔اور ایک وقت ایسا آیا کہ دشمن نے زور کر کے مسلمانوں کو اس قدر پیچھے دھکیل دیا کہ صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دشمنوں کے نرغے میں رہ گئے۔آپ نے جرأت اور دلیری کا یہ نمونہ دکھایا کہ باوجود اس کے کہ اپنی فوج ہٹ گئی تھی مگر آپ یکھے نہ بنے اور دشمن کے مقابلہ پر کھڑے رہے۔[61]