اسلام کی کتب (پانچویں کتاب) — Page 9
بچے۔ماں باپ کی عزت کرے۔اور ان کے سامنے اُف تک نہ کرے۔کوئی ایسی بات نہ کرے جس سے انکو تکلیف پیچھے۔بلکہ ان کے لئے ہر وقت دعا ئیں کرتا رہے۔اور جب وہ بوڑھے اور کمزور ہو جائیں تو ان کی تمام ضروریات کو پورا کرے اور ہر وقت ان کی خدمت میں لگار ہے۔اگر کوئی بچہ یتیم ( باپ فوت ) ہو جائے۔تو اس کے رشتہ داروں کو چاہیئے کہ وہ اس کی نگرانی اور پرورش کریں۔اس کے مال کی اور اس کی حفاظت کریں۔اور اس کے ساتھ ہمیشہ نیک سلوک کریں۔اپنے بچوں کی طرح اس کے ساتھ محبت کریں۔اور اس کی اچھی طرح تربیت کریں۔اور کسی قسم کی نا جائز تکلیف سے نہ پہنچائیں۔تعدد ازدواج اگر کسی شخص کو حقیقی ضرورت ہو۔یعنی اس کی بیوی بیمار ہو یا اس کے اولادنہ ہوتی ہو یا صحت پر برا اثر پڑتا ہو۔یا فتنہ میں پڑنے کا خوف ہو تو وہ ایک سے زیادہ شادیاں کر سکتا ہے۔مگر ایک وقت میں چار سے زیادہ نہیں رکھ سکتا۔یہ صرف اسلام کی ہی خوبی ہے کہ اس نے خاص حالات میں کثرت ازدواج (ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کا حکم دیا ہے۔باقی کسی مذہب میں یہ خوبی نہیں پائی جاتی۔مگر شرط یہ ہے کہ وہ ہر ایک بیوی کے ساتھ عدل وانصاف کرے۔کسی کا حق نہ [9]