اسلام کی کتب (چوتھی کتاب) — Page 13
13 حج میں اللہ تعالیٰ کی یاد تازہ ہوتی ہے۔اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کی قربانی کو ضائع نہیں کرتا۔بلکہ قیامت تک اس کا نام زندہ رکھتا ہے اور اس پر اپنے بڑے بڑے انعام واکرام کرتا ہے۔حج کرنے سے اللہ تعالیٰ کی قدرت یاد آتی ہے کہ اس نے بیت اللہ شریف کو جو سر زمین عرب میں واقعہ ہے۔کس طرح عربات دی ہے کہ یہ سارے جہان کا قبلہ ہے اور ہر سال دنیا کے چاروں طرف سے لوگ اس کی زیارت کے لئے اپنا مال خرچ کر کے اور تکلیفیں برداشت کر کے اللہ تعالیٰ کی اس آواز پر کہ ”حج کے لئے آؤ لبيك لبيك (حاضر ہیں! حاضر ہیں) کہتے ہوئے پہنچ جاتے ہیں۔اور اس کے سامنے حاضر ہو جاتے ہیں۔بیت اللہ شریف اور حرم میں کی ہوئی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔اور دنیا کے تمام علاقوں کے لوگوں سے بھی ملاقات ہو جاتی ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ کی قربانی کی یاد تازہ ہو جاتی ہے جو انہوں نے خدا کے حکم سے کی۔جس کی وجہ سے آپ کا نام خلیل اللہ رکھا گیا۔اس چشمہ ( چاہ زمزم ) کی بھی زیارت ہو جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت دکھانے کے لئے اور تمام دنیا کے لئے نشان بنانے کے لئے اپنی فرمانبردار حضرت ہاجرہ کے لئے جس نے اس کے حکم سے ہجرت کی۔اس کے معصوم بچے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لئے ریگستان عرب میں فوز اجاری کر دیا۔حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے اس پاک وطن کی بھی زیارت ہو جاتی ہے۔جس میں آپ نے اپنی پاک زندگی کے