اسلام کی کتب (چوتھی کتاب) — Page 46
46 مجھے خدا سے ملی ہے ضرور پیش کروں گا۔یہ نہیں ہوسکتا کہ میں اپنی قوم کو جہالت 66 میں مبتلا دیکھوں۔اور خاموش بیٹھا رہوں۔“ جب اہلِ مکہ کو اس سے بھی ناامیدی ہوئی تو انہوں نے ایک رئیس کو اپنے میں سے بچنا۔اور اُس کی معرفت آپ کو کہلا بھیجا کہ آپ یہ بتائیں کہ ملک میں یہ فساد آپ نے کیوں مچا دیا ہے؟ اگر آپ کی یہ غرض ہے کہ آپ کو عات مبل جائے۔تو ہم سب شہر میں آپ کو معزز قرار دے دیتے ہیں۔اگر مال کی خواہش ہے تو ہم سب شہر کے لوگ اپنے مالوں کا ایک ایک حصہ الگ کر کے دے دیتے ہیں۔جس سے آپ سارے شہر سے زیادہ امیر ہوجائیں گے۔اگر حکومت کی خواہش ہے تو ہم آپ کو اپنا بادشاہ بنانے کے لئے تیار ہیں۔اگر شادی کی خواہش ہے تو جس عورت سے آپ چاہیں۔آپ کی شادی کرا دی جائے گی۔مگر آپ ایک خدا کی پرستش کی تعلیم نہ دیں۔" جس وقت وفد نے یہ پیغام آپ کو آکر دیا۔آپ نے فرمایا کہ دیکھو! اگر سورج کو میرے ایک طرف اور چاند کو میرے دوسری طرف لا کر کھڑا کر دو۔یعنی یہ دنیا کا مال تو کیا ہے۔اگر چاند اور سورج کو بھی میرے قبضہ میں دے دو۔تب بھی میں اس تعلیم کو نہیں چھوڑوں گا۔“ اس وقت تک گل آنی آدمی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تھے۔مگر جب مکہ کے ظلموں کی خبر باہر پہنچی تو لوگوں نے تحقیقات کے لئے مکہ آنا