اسلام کی کتب (چوتھی کتاب) — Page 40
40 رہتے ، یہاں تک کہ ماں باپ آخر اس ڈر سے کہ کہیں مر نہ جائیں اُن کو کھانا پینا دے دیتے۔مگر نو جوانوں پر تو رحم کرنے والے لوگ موجود تھے۔جو غلام آپ پر ایمان لائے اُن کی حالت نہایت نازک تھی۔اور یہی حال دوسرے غرباء کا تھا جن کی مدد کرنے والا کوئی نہ تھا۔غلاموں کو لوہے کی زرہیں پہنا دیتے تھے۔اور پھر ان کو سورج کے پاس کھڑا کر دیتے تھے تا کہ موسم گرم ہو کر ان کا جسم مجلس جائے۔( یہ مد نظر رکھنا چاہیئے کہ وہ عرب کا سورج تھا نہ کہ انگلستان کا۔بعض کی لاتوں میں رسیاں ڈال کر ان کو زمین پر گھسیٹتے تھے۔بعض دفعہ لوگ لوہے کی سیخیں گرم کر کے اُن سے مسلمانوں کا جسم جلاتے تھے اور بعض دفعہ سوئیوں سے اُن کے چمڑوں کو اس طرح چھید تے تھے جس طرح کہ کپڑا سیتے ہیں۔مگر وہ ان سب باتوں کو برداشت کرتے تھے۔اور عذاب کے وقت کہتے جاتے تھے کہ وہ ایک خدا کی پرستش کو نہیں چھوڑ سکتے۔ایک عورت جو نہایت ہی اختہ مسلمان تھی۔اس کے پیٹ میں نیزہ مارکر اُس کو ماردیا۔خود رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کو بھی بہت دُکھ دیتے تھے۔گوڈرتے بھی تھے۔کیونکہ آپ کے خاندان کی مکہ میں بہت عزت تھی۔لوگ آپ کو گالیاں دیتے۔بعض دفعہ نماز میں جب آپ سجدہ کرتے تو سر پر اوجھڑی ڈال دیتے۔کبھی سر پر راکھ پھینک دیتے۔ایک دفعہ آپ سجدہ میں تھے کہ ایک شخص آپ کی