اسلام کی کتب (چوتھی کتاب) — Page 26
26 کے احکام بجالائے اور احترام نہ کھولے۔جب ۸ / ذی الحج ہو تو پھر حج کے تمام احکام بجالائے تو اسے قران کہتے ہیں۔قران کرنے والے پر قربانی واجب ہے۔اگر قربانی میسر نہ آسکے تو دس روزے رکھے۔تین مکہ معظمہ میں ہی اور باقی سات گھر میں واپس آکر ر کھے۔-(1 ضروری باتیں اگر کسی شخص پر حج فرض ہو لیکن کسی مجبوری کی وجہ سے خود حج نہ کر سکتا ہو تو وہ اپنی طرف سے کسی دوسرے شخص کو حج کروا سکتا ہے۔۲۔اگر کوئی شخص گھر سے تو جج کے لئے نکلے۔مگر حرم میں جا کر کسی بیماری یا دشمن کی وجہ سے رُک جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ اپنی قربانی کسی کے پاس مکہ معظمہ بھیج دے اور خود محرم ہی رہے۔جب قربانی ذبح ہو جائے تو احرام کھول کر واپس آجائے۔اس کو حج کا ثواب مل گیا اور اگر اپنی قربانی کو روانہ نہ کر سکے تو اسے وہیں ذبح کر دے اور احرام کھول دے۔اور آئندہ سال پھر حج یا عمرہ جس کے لئے پہلے گیا تھا کرے۔اور اگر حرم میں داخل ہونے سے پہلے ہی بیمار ہو جائے یا دشمن روک دے تو واپس آجائے اور اگلے سال پھر موقعہ ملنے پر نج کرے۔اگر کوئی شخص گھر سے حج کے ارادہ سے نکلے مگر راستہ میں فوت -(μ