اسلام کی کتب (چوتھی کتاب) — Page 25
25 معظمہ کے رہنے والوں کے لئے تھیم جگہ سے جو مکہ معظمہ سے تین میل کے فاصلہ پر ہے۔احرام باندھنا مستحب ہے۔عمرہ کے لئے کوئی خاص دن یا وقت مقرر نہیں۔انسان جب چاہے اور جتنی دفعہ چاہے عمرہ کر سکتا ہے۔تمتع: اگر حج کے مہینوں میں پہلے عمرہ کا احرام باندھا جاوے اور عمرہ کے احکام بجا لا کر احرام کھول دیا جائے۔اور مکہ معظمہ میں ٹھہر کر حج کے وقت کا انتظار کیا جائے اور ۸ / ذی الحجہ کے آنے پر پھر احرام باندھ کر حج کے احکام بجا لائے جائیں تو تمتع کہلاتا ہے۔یعنی حج کے مہینوں میں عمرہ بھی کیا گیا۔اور حج بھی کیا گیا۔مگر درمیان میں احرام کھول دیا گیا۔اور ۸ / ذی الحجہ کو پھر احترام باندھ کر حج کیا گیا تو یہ مقتع کہلایا۔تمتع کرنے والے پر قربانی فرض ہے۔اگر اسے قربانی میسر نہ آسکے تو دس روزے رکھے۔تین مکہ معظمہ میں ہی اور سات گھر میں واپس آکر رکھے۔قرآن: حج کے مہینوں میں میقات سے عمرہ اور حج دونوں کا احرام باندھنے اور ہر دو کے بجالانے کو قران کہتے ہیں۔قران کا یہ طریق ہے کہ جو شخص حج کے مہینوں میں ہی عمرہ اور حج کرنا چاہتا ہے وہ میقات سے ہر دو کی نیت کر کے احرام باند ھے۔مکہ معظمہ میں پہنچ کر عمرہ