اسلام کی کتب (تیسری کتاب) — Page 47
کھائی۔اور ان دلائل کے آگے جو آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاء ہوئے تھے۔عاجز آگئے۔آپ نے مخالفین کو دعوت دی کہ آؤ میرے بالمقابل نشان دکھاؤ! یا مجھے قبول کرو لیکن اُن میں کب نشان نمائی کی طاقت تھی کہ وہ آ کر مقابلہ کرتے۔اور ان کے دلوں میں کب سچائی کی تڑپ تھی کہ وہ عاجز آ کر آپ کو قبول کرتے۔کیونکہ اُن کے دلوں میں تو صرف حسد ہی تھا۔کہ کیوں اس شخص کو اللہ تعالی نے یہ ضلعت مامور یت اور مسیحیت پہنا دیا ہے۔جب نشان نمائی کے لئے بھی کوئی مقابلہ کے لئے نہ آیا۔اور نہ ہی تکفیر تفسیق سے علماء باز آئے تو آپ نے ایک اور طریق فیصلہ اختیار کیا۔کہ آپ نے تمام بڑے بڑے علماء اور گڈی نشینوں کو دعوت دی کہ آؤ میرے ساتھ مباہلہ کرو! اگر میں جھوٹا ہوا تو میں ہلاک ہو جاؤں گا۔اور اگر تم جھوٹے ہوئے تو تم ہلاک ہو جاؤ سے۔لیکن یاد رکھو کہ میں سچا ہوں۔جو بھی تم میں سے میرے مقابلہ پر آئے گا۔وہ تباہ و برباد اور ہلاک ہو جائے گا۔اور اگر سب مل کر میرے سامنے مباہلہ کے لئے آئیں گے تو سب ہی ہلاک ہو جائیں گے۔لیکن مباہلہ کیلئے بھی کوئی میدان میں نہ نکلا۔اور آپ سے نبرد آزما نہ ہوا۔اس کے بعد پھر ایک اور طریق فیصلہ آپ نے لوگوں کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ آؤ میرے مقابل پر قرآن شریف کی تفسیر لکھو۔اگر میں تم پر غالب رہا تو پھر [47]