اسلام کی کتب (تیسری کتاب) — Page 24
والوں کی گود سے آپ کجدا ہوتے رہے۔حتی کہ آپ جوانی کو پہنچے۔جن گھروں میں آپ نے پرورش پائی وہ امیر گھر نہ تھے۔وہاں میز بچھا کر کھانا نہیں ملتا تھا۔بلکہ مالی حالی اور ملکی رواج کے ماتحت جسوقت کھانے کا وقت آتا۔بچے ماں کے گرد جمع ہو کر کھانے کے لئے شور مچادیتے۔اور ہر ایک دوسرے سے زیادہ حصہ چھین لے جانے کی کوشش کرتا۔آپ کے چچا کی نوکر بیان کرتی ہے کہ آپ کی یہ عادت نہ تھی جسوقت گھر کے سب بچے چھینا جھپٹی میں مشغول ہوتے۔آپ ایک طرف خاموش ہو کر بیٹھ جاتے اور اس بات کی انتظار کرتے کہ پانی نخود آ کر کھا نا دے۔اور جو کچھ آپ کو دیا جاتا۔اُسے خوش ہو کر کھالیتے۔جب آپ کی عمر میں سال کی ہوئی تو آپ ایک ایسی سوسائیٹی میں داخل ہوئے۔جس کا ہر ایک ممبر اس امر کی قسم کھاتا تھا کہ اگر کوئی مظلوم خواہ کسی قوم کا ہو۔اُسے مدد کے لئے بلائیگا تو وہ اس کی مدد کریگا۔یہانتک کہ اُسکا حق اُس کومل جائے۔اور اس نوجوانی کی عمر میں آپ کا یہ مشغلہ تھا کہ جب کسی شخص کی نسبت یہ معلوم ہوتا کہ اُسکا حق کسی نے دبا لیا ہے تو آپ اس کی مدد کر تے۔یہانتک کہ ظالم مظلوم کا حق واپس کر دیتا۔آپ کی سچائی۔امانت اور نیکی اس عمر میں اس قدر مشہور ہو گئی کہ لوگ آپ کو صدیق اور امین کہا کرتے تھے۔جب اس نیکی کا بہت چرچا ہونے لگا تو پچیں [24]