اسلام کی کتب (تیسری کتاب) — Page 33
جنگ سے نہیں بھاگے اور ہر میدان میں آپ نے ثابت قدمی دکھائی۔آپ کے دل میں مسلمانوں کے لئے بہت درد تھا۔اگر کسی غلام کو اسلام لانے کی وجہ سے تکلیف دی جاتی تو آپ حتی الوسع اُسے خرید کر آزاد کر دیتے۔تمام صحابہ کرام آپ کی قدر کرتے تھے۔اور آپ کو عزت کی نگاہوں سے دیکھتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور ادب آپ کے دل میں کمال درجہ کا تھا۔ایک دفعہ حضور علیہ السلام کسی کام کے لئے باہر تشریف لے گئے۔نماز کا وقت ہو گیا۔لوگوں نے آپ کو امام بنالیا۔اور نماز شروع کر دی۔اثنائے نماز میں خود آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم بھی تشریف لے آئے۔آپ فور ایچھے ہٹ گئے۔نماز کے بعد حضور علیہ السلام کے دریافت کرنے پر فرمایا۔ابوبکر اور پھر رسول اللہ کے آگے۔آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لئے راتوں بیدار رہتے۔اور اپنی جان کا بالکل خیال تک دل میں نہ لاتے۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو صحا بہ مارے غم کے دیوانہ ہو گئے اور انہیں کچھ نہ سُوجھتا تھا۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہنا شروع کر دیا کہ آپ زندہ ہیں۔اور آسمان پر تشریف لے گئے ہیں۔حضرت ابوبکر اندر تشریف لے گئے۔اور حضور کے رُوئے مبارک سے کپڑا اٹھا کر بوسہ دیا۔اور لوگوں میں آکر مخطبہ پڑھا۔اور آیت مَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ الآیۃ پڑھی یعنی اے لوگو! حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم بھی تو [33]