اسلام کی کتب (تیسری کتاب) — Page 22
کی ہر ایک بات اس نوجوان خاوند اور بیٹے کی یاد کو تازہ کرتی تھی۔جو سات ماہ پہلے۔۔۔اپنے بوڑھے باپ اور جوان بیوی کو داغ جدائی دیکر اپنے پیدا کرنے والے سے جاملا تھا۔مگر خوشی غم پر غالب تھی۔کیونکہ اس بچہ کی پیدائیش سے اس مرنے والے کا نام ہمیشہ کیلئے محفوظ ہو گیا۔دادا نے اس بچہ کا نام جو پیدائیش سے پہلے ہی یتیم ہو چکا تھا۔محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) رکھا۔اور اس یتیم بچہ نے اپنی والدہ اور اپنے چچا کی ایک خادمہ کے دودھ پر پرورش پانی شروع کی۔مکہ کے لوگوں میں رواج تھا کہ وہ اپنے بچوں کو گاؤں کی عورتوں کو پرورش اور دودھ پلانے کے واسطے دے دیتے تھے۔کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ بچہ کی پرورش شہر میں اچھی طرح نہیں ہو سکتی اور اس طرح صحت خراب ہو جاتی ہے۔مکہ کے اردگرد کے تیس چالیس میل کے فاصلہ کے گاؤں کے لوگ وقتا فوقتا شہر میں آتے اور بچوں کو لے جاتے۔اور جب وہ پال کر واپس لاتے تو ان کے ماں باپ پالنے والوں کو بہت کچھ انعام دیتے۔محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم ) کی پیدائیش کے بعد جب یہ لوگ آئے تو ان کی والدہ نے بھی چاہا کہ آپ کو بھی کسی خاندان کے سپرد کر دیں۔مگر ہر ایک عورت اس بات کو معلوم کر کے کہ آپ یتیم ہیں۔آپ کو لیجانے سے انکار کر دیتی۔کیونکہ وہ ڈرتی تھی کہ بن باپ کے بچہ کی پرورش پر انعام کون دیگا ؟ اس طرح یہ آئیندہ بادشاہوں کا سردار ہونے والا بچہ ایک ایک کے سامنے پیش کیا گیا۔اور سب نے اس کے لیجانے سے انکار کر دیا۔[22]