اسلام کی کتب (تیسری کتاب) — Page 42
خالی ہیں۔اور فسق و فجور میں مبتلاء ہیں۔آپ کے والد صاحب چاہتے تھے کہ آپ دُنیا کے کاموں میں مشغول ہوں۔اور آپ چاہتے تھے کہ تمام دنیا کو ترک کر کے خلوت میں یاد الہی میں مشغول رہیں۔آخر آپ کو اپنے والد کی منشاء کے مطابق مجبور اد نیا کے کاموں میں لگنا پڑا۔لیکن آپ کی طبیعت ہر گز نہیں چاہتی تھی کہ دنیا کے کاموں میں مشغول ہوں۔لیکن باوجود کاروبار میں مشغول ہونے کے آپ ہر وقت یا دالہی میں ہی مصروف رہتے۔آخر آپ کے والد ماجد کا ۱۸۷ء میں انتقال ہو گیا۔اور آپ کو دُنیا کے کاموں سے گونہ فراغت حاصل ہوگئی۔اس وقت زمانہ کی یہ حالت تھی کہ تمام دنیابد یوں اور بدکاریوں میں مشغول تھی۔امیر وغریب شاہ و گدا۔نوجوان وبوڑھا۔سب فسق و فجور میں مبتلاء تھے۔اور اسلام پر چاروں طرف سے حملے ہورہے تھے۔آریوں اور عیسائیوں نے مسلمانوں کا ناک میں دم کر رکھا تھا۔اور قرآن مجید پر طرح طرح کے اعتراضات اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر طرح طرح کے الزامات لگائے جاتے تھے۔ان باتوں کو دیکھ کر آپ کا دل بہت گڑھتا تھا۔آخر آپ نے مخالفین اسلام کے حملوں کے جواب میں مضامین لکھنے شروع کئے۔جو مختلف اخبارات میں شائع ہونے شروع ہوئے۔اور بہت مقبول اور پسند ہوئے۔اس کے بعد آپ نے اعلام واذن الہی کے ماتحت براہین احمدیہ کھنی شروع کی۔اور اس کے ساتھ یہ اعلان کیا کہ اگر کوئی شخص اس کا جواب لکھے گا تو میں اُس کو دس ہزار روپیہ انعام [42]