اسلام کی کتب (تیسری کتاب) — Page 39
حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بعد آپ تخت خلافت پر متمکن ہوئے۔آپ تمام خلفاء کے لئے عدالت وخلافت میں کامل نمونہ تھے۔تمام مصنفین اور مؤرخین مانتے ہیں کہ آپ ایک عظیم الشان مدبر اور حکمران تھے۔آپ نے ملک عرب کو مسلمانوں کے لئے خاص کر دیا۔شام ( بمع بیت المقدس ) عراق، فارس، مصر۔اور برقہ وغیرہ آپ ہی کے زمانہ میں فتح ہوئے۔بصرہ اور کوفہ کو بنوایا۔مسجد نبوی اور مسجد حرام کو وسیع کیا۔علم تاریخ سکہ سازی۔ڈاک رسانی۔مساحت زمین۔تجارت کو پھیلانا۔مسافر خانے اور بیت المال بنوانا۔سرحدوں پر چھاؤنیاں بنوانا۔شہروں میں قاضی مقرر کرنا۔سب آپ سے ہی شروع ہوئے۔آخر آپ کی شہادت کا دن آ پہنچا۔ایک دن جبکہ آپ صبح کی نماز پڑھا رہے تھے۔ایک بد بخت غلام نے جس کا نام فیروز اور کنیت ابولولو تھی۔۲۷ رزی الحمد ۲۳ھ کو تیر مار کر شہید کر دیا۔مرتے دم تک آپ کے چہرہ پر بہادری کے آثار نمایاں تھے۔جب آپ کا آخری وقت تھا تو آپ نے اپنے بیٹے عبد اللہ کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا کہ جس طرح میں اپنی زندگی میں اپنے دونوں یاروں (حضرت رسول پاک اور حضرت ابوبکر کے ساتھ رہا ہوں اب بھی مجھے اُن کے ساتھ ہی دفن [39]