اسلام کی کتب (تیسری کتاب) — Page 38
کہا کہ آج عمر صابی ( مرتد ) ہو گیا ہے۔اور آج ہم نصف رہ گئے۔حضرت عمر کے ایمان لانے سے مسلمانوں کو بہت تقویت پہنچی۔اب مسلمانوں نے جو پہلے ایک مکان میں نمازیں پڑھتے تھے برملا نمازیں پڑھنا شروع کیں۔اسلام لانے کے وقت آپ کی عمر ۲۳۳ برس کی تھی۔اسلام لانے کے بعد آپ نے وہ نمونہ دکھایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی مدد اور کفار کے مقابلہ کرنے میں آپ نے جان تک کی پرواہ نہ کی۔ہجرت کے وقت سب لوگ چھپ چھپ کر مکہ سے نکل آئے۔مگر حضرت عمر تلوار گلے میں لٹکا ، تیروکمان ہاتھ میں لے کعبہ کے صحن میں آئے۔وہاں قریش سب کے سب بیٹھے تھے۔پہلے آپ نے اطمینان سے طواف کر کے نماز پڑھی۔پھر اُن سے مخاطب ہو کر فرمایا۔"اے ذلیل لوگو ! تم میں سے جو اپنی ماں کو بے فرزند، بچوں کو یتیم اور بیوی کو بیوہ بنانا چاہتا ہے وہ اس وقت آئے اور لڑے۔مگر کسی کا فر کو جرات نہ ہوئی۔آپ اکثر جنگوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔اور ہمیشہ ثابت قدم رہے۔اور کبھی میدان جنگ سے نہیں بھاگے۔جنگ بدر کے موقعہ پر جب کافروں نے بتوں کی بجے کا نعرہ لگایا تو حضرت عمر نے اللہ اعلیٰ واجل د یعنی اللہ ہی سب سے بڑا اور بزرگ ہے۔“ کا نعرہ لگایا۔لے اس وقت اسلام لانے والوں کو لوگ صابی ( مرتد ) کہا کرتے تھے۔ย [38]