اسلام کی کتب (دوسری کتاب) — Page 10
تمام کام کاج کھیل کو دچھوڑ کر نماز کے لئے مسجد کی طرف چلے جانا چاہیئے۔اقامت جب نماز کھڑی ہونے لگے اور امام مصلی پر کھڑا ہو جائے تو لوگوں کو چاہئے کہ صفیں سیدھی کر لیں۔کیونکہ صفوں کی درستی نماز کی مُتمم ہے۔اور حضرت رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفیں سیدھی کرنے کے متعلق بہت تاکید فرمائی ہے۔جب صفیں سیدھی ہو جائیں تو مؤذن کو چاہیے کہ اقامت کہے۔مؤذن کے علاوہ کوئی دوسر اشخص بھی اس کی اجازت سے اقامت کہہ سکتا ہے۔اقامت کے کلمات یہ ہیں۔اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ۔أَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللهِ حَيَّ عَلَى الصَّلوةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ قَدْ قَامَتِ الصَّلوة »۔قَدْ قَامَتِ الصَّلوةُ الله أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ اوقات نماز فجر کی نماز کا وقت صبح صادق سے لے کر سورج کے نکلنے تک ہے۔ا۔مُتیہ۔پوری کرنے والی ے۔نماز کھڑی ہے۔[10]