اسلام کی کتب (دوسری کتاب) — Page 41
حضرت محمد رسول اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّمَ آپ ملک عرب میں پیدا ہوئے۔جب آپ کا ظہور ہوا، دنیا گھر او ہو چکی تھی۔تمام لوگ خدا کو چھوڑ چکے تھے۔آپ کی آمد سے ذرا پہلے کوئی خال خال توحید کی طرف متوجہ ہونے لگا تھا۔سب لوگ بُرائیوں میں مبتلا تھے۔آپ نے جس وقت دعویٰ کیا۔قریبا سب لوگ آپ کے مخالف ہو گئے۔اور آپ کو ہر وقت تکلیفیں دینے لگ گئے۔آپ کے حامی بہت ہی کم تھے۔بلکہ آپ کو تکلیف دینا ثواب سمجھتے تھے۔کوئی کہتا تھا جادوگر ہیں۔کوئی کہتا تھا مجنون ہیں۔(نعوذ باللہ ) اور کوئی کہتا تھا شاعر ہیں۔جلد تباہ ہو جائے گا۔اور کوئی کہتا تھا پرا گندہ خواب بین ہیں۔اور کوئی کہتا تھا ابتر ہیں۔اُن کے بعد اُن کا سلسلہ ختم ہو جائے گا غرض جتنے منہ اتنی باتیں تھیں۔لیکن آپ نے فرمایا کہ میرا خدا کہتا ہے کہ تم میرا کچھ بگاڑ نہیں سکو گے۔میرا خدا خود میری حفاظت کرے گا۔اگر تم مجھے مان لو گے تو اس جہان میں بھی کامیاب ہو جاؤ گے اور اگلے جہان میں بھی تم کو نعمتیں ملیں گی۔لیکن اگر غم باز نہیں آؤ گے اور میرا انکار کرو گے توئم اس جہان میں بھی ناکام و نامرادر ہو گے اور اگلے جہان میں بھی تم سخت تکلیفیں اٹھاؤ گے۔اور تم کو دوزخ میں [41]