اسلام کی کتب (دوسری کتاب) — Page 50
آنے کے بغیر واپس چلے جائیں۔یہاں حضرت مولوی عبد الکریم صاحب بھی موجود تھے۔انہوں نے آپ سے ذکر کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا منشاء یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ اب یہیں رہیں۔فرمایا بہت اچھا۔اور یہیں رہنے لگ پڑے۔آپ صبح قرآن مجید کا درس عورتوں میں دیتے اور شام کے وقت مسجد اقصٰی میں مردوں کو درس قرآن شریف کا روزانہ دیتے۔اور دن بھر طالب علموں کو حدیث اور طبی کتب کا درس فرماتے۔اور مریضوں کا علاج کرتے یا حضرت مسیح موعُودعلیہ السلام کی خدمت میں حاضر رہتے۔۱۹۰۸ ء میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وصال ہو ا تو تمام جماعت احمدیہ نے آپ کو حضور کا خلیفہ تسلیم کیا۔اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کی تعلیم الاسلام ہائی سکول اور بورڈنگ ہاؤس کی عظیم الشان عمارتیں آپ ہی کے عہد خلافت میں تیار ہوئیں۔ٹور ہسپتال اور مسجد نور بھی آپ کے زمانہ کی یادگار ہیں اور آپ کے نام پر نامزد ہوئیں۔اخبار الفضل اور اخبار نور بھی آپ کے زمانہ میں ہی جاری ہوئے۔اور لندن میں تبلیغی مشن کا اجراء بھی آپ ہی کے زمانہ مبارک میں ہوا۔ایک اور بات جو خاص طور پر قابل ذکر ہے۔وہ یہ ہے کہ صوبہ بنگال کے مشہورو معروف عالم و فاضل مولوی سید عبد الواحد صاحب مبلغ سلسلہ عالیہ احمد یہ بھی آپ ہی کے زمانہ میں داخل سلسلہ ہوئے۔جن کے واسطہ سے صد ہالوگوں نے بیعت کی۔آپ نے ۱۳ مارچ ۱۹۱۷ ء کو بروز جمعہ وفات پائی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ย رض [50]