اسلام کی کتب (دوسری کتاب) — Page 35
نماز خوف اگر کسی دشمن وغیرہ کا خوف ہو تو چار رکعت نماز فرض کی بجائے دو رکعت نماز پڑھنا جائز ہے۔اگر دشمن کا مقابلہ ہورہا ہو۔اور کچھ اطمینان ہو جائے تو ایک گروہ دشمن کا مقابلہ کرتا رہے۔اور دوسرا آکر ایک رکعت جماعت کے ساتھ پڑھ لے۔اور دوسرا اگر ایک رکعت امام سے علیحد و پڑھ کر تیل سلام چلا جاوے اور امام کھڑا رہے پھر دوسرا گروہ آ جائے اور وہ ایک رکعت امام کے ساتھ پڑھ لے اور دوسری رکعت علیحد و پڑھ لیں۔پھر امام اور دونوں گروہ سلام پھیر ہیں۔اگر اس قدر فرصت اور موقعہ نہ ملے تو جس طرح ہو سکے سواریوں پر یا چلتے چلتے نماز پڑھ لیں خواہ رُخ قبلہ کی طرف ہو یا کسی دوسری طرف۔نماز حاجت اگر کسی کو کوئی حاجت پڑے تو اُس کو چاہئیے کہ نماز حاجت پڑھے نماز حاجت کا یہ طریق ہے کہ وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھے۔پھر اللہ تعالیٰ کی حمد کرے اور حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے اور یہ دعائے حاجت پڑھے۔لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ سُبْحَانَ اللهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ وَالْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ اَسْأَلُكَ مُوْجِبَاتِ رَحْمَتِكَ وَعَزَائِمَ [35]