اسلام اور آزادیء ضمیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 23 of 102

اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 23

بن کر دوسروں کے جذبات سے کھیلتے ہو یہ نہ ہی جمہوریت ہے اور نہ ہی آزادی ضمیر ہے۔ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے اور کچھ ضابطہ اخلاق ہوتے ہیں۔جس طرح ہر پیشہ میں ضابطہ اخلاق ہیں، اسی طرح صحافت کے لئے بھی ضابطہ اخلاق ہے اور اسی طرح کوئی بھی طرز حکومت ہو اس کے بھی قانون و قاعدے ہیں۔آزادی رائے کا قطعا یہ مطلب نہیں ہے کہ دوسرے کے جذبات سے کھیلا جائے ، اس کو تکلیف پہنچائی جائے۔اگر یہی آزادی ہے جس پر مغرب کو ناز ہے تو یہ آزادی ترقی کی طرف لے جانے والی نہیں ہے بلکہ یہ تنزل کی طرف لے جانے والی آزادی ہے۔آنحضرت ﷺ کی توہین پر مبنی حرکات پر اصرار غضب الہی کو بھڑ کانے کا موجب ہے مغرب بڑی تیزی سے مذہب کو چھوڑ کر آزادی کے نام پر ہر میدان میں اخلاقی قدریں پامال کر رہا ہے اس کو پتہ نہیں ہے کہ کس طرح یہ لوگ اپنی ہلاکت کو دعوت دے رہے ہیں۔ابھی اٹلی میں ایک وزیر صاحب نے ایک نیا شوشہ چھوڑا ہے کہ یہ بیہودہ اور غلیظ کارٹون ٹی شرٹس پر چھاپ کر پہنے شروع کر دیئے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی کہا ہے میرے سے لو۔سنا ہے وہاں بیچے بھی جا رہے ہیں۔کہتے ہیں کہ مسلمانوں کا علاج یہی ہے۔تو ان لوگوں کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ یہ تو ہمیں نہیں پتہ کہ مسلمانوں کا یہ علاج ہے یا نہیں لیکن ان حرکتوں سے وہ خدا کے غضب کو بھڑ کانے کا ذریعہ ضرور بن رہے ہیں۔جو کچھ بیوقوفی میں ہو گیا ، وہ تو ہو گیا لیکن اس کو تسلسل سے اور ڈھٹائی کے ساتھ کرتے چلے جانا اور اس پر پھر مصر ہونا کہ ہم جو کر رہے ہیں ٹھیک ہے۔یہ چیز اللہ تعالیٰ کے غضب کو ضرور بھڑکاتی ہے۔23 223