اسلام اور آزادیء ضمیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 13 of 102

اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 13

عشق رسول کی غیرت پر دو مثالیں دیتا ہوں۔پہلی مثال عبد اللہ آتھم کی ہے جو عیسائی تھا۔اس نے اپنی کتاب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اپنے انتہائی غلیظ ذہن کا مظاہرہ کرتے ہوئے دجال کا لفظ نعوذ باللہ استعمال کیا۔اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ اسلام اور عیسائیت کے بارہ میں ایک مباحثہ بھی چل رہا تھا، ایک بحث ہو رہی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ سو میں پندرہ دن تک بحث میں مشغول رہا، بحث چلتی رہی اور پوشیدہ طور پر آتھم کی سرزنش کے لئے دعا مانگتا رہا۔یعنی جو الفاظ اس نے کہے ہیں اس کی پکڑ کے لئے۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ جب بحث ختم ہوئی تو میں نے اس سے کہا کہ ایک بحث تو ختم ہوگئی مگر ایک رنگ کا مقابلہ باقی رہا جو خدا کی طرف سے ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ نے اپنی کتاب ” اندرونہ بائیل میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دجال کے نام سے پکارا ہے۔اور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صادق اور سچا جانتا ہوں اور دین اسلام کو من جانب اللہ یقین رکھتا ہوں۔پس یہ وہ مقابلہ ہے کہ آسمانی فیصلہ اس کا تصفیہ کرے گا۔اور وہ آسمانی فیصلہ یہ ہے کہ ہم دونوں میں سے جو شخص اپنے قول میں جھوٹا ہے اور ناحق رسول کو کا ذب اور دجال کہتا ہے اور حق کا دشمن ہے وہ آج کے دن سے پندرہ مہینے تک اس شخص کی زندگی میں ہی جو حق پر ہے ہادیہ میں گرے گا بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔یعنی راستباز اور صادق نبی کو دجال کہنے سے باز نہ آوے اور بے باکی اور بدزبانی نہ چھوڑے۔یہ اس لئے کہا گیا کہ صرف کسی مذہب کا انکار کر دینا دنیا میں مستوجب سزا نہیں ٹھہرتا بلکہ بے با کی اور شوخی اور بد زبانی مستوجب سزا ٹھہرتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں جب میں نے یہ کہا تو اس کا رنگ فق ہو گیا، چہرہ زرد ہو گیا اور ہاتھ کانپنے لگے تب اس نے بلا توقف اپنی زبان منہ سے نکالی اور دونوں ہاتھ کانوں پر دھر لئے اور ہاتھوں کو مع سر کے ہلانا شروع کیا جیسا ایک ملزم خائف ایک الزام کا سخت انکار کر کے تو بہ اور انکسار کے رنگ میں اپنے تئیں ظاہر کرتا ہے اور بار بار کہتا تھا کہ تو ب تو بہ میں نے بے ادبی اور گستاخی نہیں کی اور پھر بعد میں بھی اسلام کے خلاف کبھی 13