اسلام اور آزادیء ضمیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 63 of 102

اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 63

Cumberland میں ہونے والے اجتماع میں شرکاء کی تعداد ۵۰۰ تھی۔احمد صاحب نے دنیا کے متعدد مسلم رہنماؤں کی طرح بعض لوگوں کے اس موقف کی پر زور تنقید کی جو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ فلم آزادی اظہار رائے کے اصول کے دائرہ کار میں آتی ہے۔احمد صاحب نے کہا کہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والی مقدس ہستی کے بارہ میں ہر طرح کی بیہودہ گوئی کوکسی بھی لحاظ سے آزادی اظہار رائے کا نام نہیں دیا جا سکتا۔گزشتہ ہفتہ لندن میں امام جماعت احمد یہ عالمگیر نے تمام مسلمانوں کو نصیحت کی کہ وہ اس فلم کے خلاف پر امن طور پر متحد ہو جائیں اور انہوں نے فساد کی مذمت کی۔حضرت مرزا مسرور احمد صاحب نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ مذہبی اعتقادات کی حفاظت کے لیے آزادی اظہار رائے کی کچھ حدود متعین ہونی چاہئیں۔انہوں نے فرمایا: اظہار رائے کی آزادی کے نام پر امن عالم کو تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔“ مجلس خدام الاحمدیہ Ottawa کے قائد اولیس محمود نے کہا کہ وہ پاکستان میں اپنی فیملی کے افراد کے بارہ میں فکرمند ہیں جہاں AFP کی خبر کے مطابق اس فلم کے نتیجہ میں ہونے والے ہنگاموں میں ۲۱ افراد قتل اور ۲۰۰ سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔محمود صاحب نے کہا کہ اسلام ہمیں وفاداری کا درس دیتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے۔پاکستان میں یہ ہو رہا ہے کہ لوگ اپنی ہی املاک کو تباہ کر رہے ہیں اور اپنے ہمسایوں کو نقصان پہنچارہے ہیں۔اپنے خیالات کے اظہار کا یہ مناسب طریق نہیں ہے۔عورتوں کی تنظیم کی سربراہ یا مین ملک صاحبہ نے ایک پر امن حل تجویز کرتے ہوئے کہا: ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہنگامے کرنا اور جلاؤ گھیراؤ کرنے کے بجائے ہمیں قلم کے ساتھ اپنا پیغام لوگوں تک پہنچانا چاہیے۔“ 63