اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 82
کی مصنوعی شان و شوکت پیدا کی۔اگران فتوحات میں ذاتی اغراض ہوتیں تو یہ ضرور ایسا کرتیں۔اپنی طاقت کے جو بن پر بھی اپنی عادات اور حلیہ میں وہی سادگی برقرار رکھی جو کہ آپ کے اندر مشکل ترین حالات میں تھی۔یہاں تک کہ اپنی شاہانہ زندگی میں بھی اگر کوئی آپ کے کمرہ میں داخل ہوتے وقت غیر ضروری تعظیم کا اظہار کرتا تو آپ اسے ناپسند فرماتے۔“ (Washington Irving۔The Life of Mahomet Bernard Tauchnitz,۔Leipzig۔pp۔272-3(1850)) سرولیم میور (Sir William Muir) اپنی کتاب Life of Mahomet میں لکھتا ہے کہ : اپنا ہر ایک کام مکمل کرتے اور جس کام کو بھی ہاتھ میں لیتے جب تک اس کو ختم نہ کر لیتے اُسے نہ چھوڑتے۔معاشرتی میل جول میں بھی آپ کا یہی طریق رہتا۔جب آپ کسی کے ساتھ بات کرنے کے لئے اپنا رخ موڑتے تو آپ آدھا نہ مڑتے بلکہ پورا چہرہ اور پورا جسم اُس شخص کی طرف پھیر لیتے۔کسی سے مصافحہ کرتے وقت آپ اپنا ہاتھ پہلے نہ کھینچتے۔اسی طرح کسی اجنبی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے درمیان میں نہ چھوڑتے اور اگلے شخص کی بات پوری سنتے۔آپ کی زندگی پر آپ کی خاندانی سادگی غالب تھی۔آپ کو ہر کام خود کرنے کی عادت تھی۔جب بھی آپ صدقہ دیتے تو سوالی کو اپنے ہاتھ سے دیتے۔گھریلو کام کاج میں اپنی بیویوں کا ہاتھ بٹاتے۔پھر لکھتا ہے: آپ تک ہر کس و ناکس کی پہنچ ہوتی جیسے دریا کی پہنچ کنارے تک ہوتی ہے۔باہر سے آئے ہوئے وفود کو عزت و احترام سے خوش آمدید کہتے۔ان وفود کی آمد اور دیگر حکومتی معاملات کے متعلق تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اندر ایک قابل حکمران کی تمام صلاحیتیں موجود تھیں۔سب 82