اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 75
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں غیروں کا خراج عقیدت جارج سیل George Sale ایک مصنف ہیں جنہوں نے انگریزی میں ترجمہ قرآن کیا ہے۔ترجمہ سے پہلے ایک لمبا تعارفی مضمون تحریر کیا۔جس کے باب To the reader میں Spanhemius کے حوالہ سے لکھتا ہے کہ: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کامل طور پر فطری قابلیتوں سے آراستہ تھے، شکل میں نہایت خوبصورت ، فہیم اور دُور رس عقل والے۔پسندیدہ و خوش اطوار۔غرباء پرور، ہر ایک سے متواضع۔دشمنوں کے مقابلہ میں صاحب استقلال و شجاعت۔سب سے بڑھ کر یہ کہ خدائے تعالیٰ کے نام کا نہایت ادب و احترام کرنے والے تھے۔جھوٹی قسم کھانے والوں، زانیوں، سفاکوں، جھوٹی تہمت لگانے والوں ، فضول خرچی کرنے والوں، لالچیوں اور جھوٹی گواہی دینے والوں کے خلاف نہایت سخت تھے۔بردباری، صدقہ و خیرات ، رحم و کرم شکر گزاری، والدین اور بزرگوں کی تعظیم کی نہایت تاکید کرنے والے اور خدا کی حمد و تعریف میں نہایت کثرت سے مشغول رہنے والے تھے۔“ (George Sale۔To the Reader۔In:The Koran: Commonly called the Alkoran of Mohammed۔J۔B۔Lippincott & Co۔, PA۔pp۔vi-vii (1860)) ایک مصنف سٹینلے لین پول (Stanley Lane-Poole) لکھتا ہے کہ: محمد (ﷺ) اپنے آبائی شہر مکہ میں جب فاتحانہ داخل ہوئے اور اہل مکہ آپ کے جانی دشمن اور خون کے پیاسے تھے تو اُن سب کو معاف کر دیا۔یہ ایسی فتح تھی اور ایسا پاکیزہ فاتحانہ داخلہ تھا جس کی مثال ساری تاریخ انسانیت میں نہیں ملتی۔(Stanley Lane-Poole۔Introduction۔In: Speeches and Table Talk of the Prophet Muhammad Macmillan & Co۔, London۔p xlvi (1882)) 75