اسلام اور آزادیء ضمیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 44 of 102

اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 44

قو میں فائدہ اٹھا رہی ہیں۔پس یہ اخلاق ربانی ہمیں سبق دیتے ہیں کہ ہم بھی اپنے بنی نوع انسانوں سے مروت اور سلوک کے ساتھ پیش آویں اور تنگ دل اور تنگ ظرف نہ بنیں۔دوستو! یقیناً سمجھو کہ اگر ہم دونوں قوموں میں سے کوئی قوم خدا کے اخلاق کی عزت نہیں کرے گی اور اس کے پاک خلقوں کے برخلاف اپنا چال چلن بنائے گی تو وہ قوم جلد ہلاک ہو جائے گی۔اور نہ صرف اپنے تیں بلکہ اپنی ذریت کو بھی تباہی میں ڈالے گی جب سے کہ دُنیا پیدا ہوئی ہے تمام ملکوں کے راستبازیہ گواہی دیتے آئے ہیں کہ خدا کے اخلاق کا پیرو ہونا انسانی بقاء کے لئے ایک آب حیات ہے۔اور انسانوں کی جسمانی اور روحانی زندگی اسی امر سے وابستہ ہے کہ وہ خدا کے تمام مقدس اخلاق کی پیروی کرے جو سلامتی کا چشمہ ہیں۔“ (پیغام صلح، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۳۹-۴۴۰) کسی مقبول پیغمبر اور مقبول الہامی کتاب کی توہین نہ کی جائے اپنی وفات سے ایک روز قبل تحریر کی جانے والی تقریر بعنوان ”پیغام صلح میں آپ مزید فرماتے ہیں کہ: ”ایسے نازک وقت میں یہ راقم آپ کو صلح کے لئے بلاتا ہے جب کہ دونوں کو صلح کی بہت ضرورت ہے۔دنیا پر طرح طرح کے ابتلا نازل ہو رہے ہیں۔زلزلے آ رہے ہیں۔قحط پڑ رہا ہے اور طاعون نے بھی ابھی پیچھا نہیں چھوڑا۔اور جو کچھ خدا نے مجھے خبر دی ہے وہ بھی یہی ہے کہ اگر دنیا اپنی بد عملی سے باز نہیں آئے گی اور بُرے کاموں سے تو بہ نہیں کرے گی تو دنیا پر سخت سخت بلائیں آئیں گی۔اور ایک بلا ابھی بس نہیں کرے گی کہ دوسری بلا ظاہر ہو جائے گی۔آخر انسان نہایت تنگ ہو جائیں گے کہ یہ کیا ہونے والا ہے۔اور بہتیری مصیبتوں کے بیچ میں آکر دیوانوں کی طرح ہو جائیں گے۔سواے ہموطن بھائیو! قبل اس کے کہ وہ دن آویں ہوشیار ہو جاؤ۔اور چاہیئے کہ ہندو مسلمان باہم صلح کر لیں اور جس قوم میں کوئی زیادتی ہے جو وہ صلح کی مانع ہو اس زیادتی کو وہ قوم چھوڑ دے۔ورنہ با ہم عداوت کا تمام گناہ اسی قوم کی گردن پر ہو گا۔44