اسلام اور آزادیء ضمیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 43 of 102

اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 43

سے دیکھتے ہیں اس کا یہی سبب ہے کہ قدیم سے یہی پادری صاحبان خلاف واقعہ قصوں کو پیش کر کے تحقیر کا سبق ان کو دیتے چلے آئے ہیں۔ہاں میں قبول کرتا ہوں کہ بعض نادان مسلمانوں کا چال چلن اچھا نہیں اور نادانی کی عادات ان میں موجود ہیں۔جیسا کہ بعض وحشی مسلمان ظالمانہ خونریزیوں کا نام جہادر کھتے ہیں اور انہیں خبر نہیں کہ رعیت کا عادل بادشاہ کے ساتھ مقابلہ کرنا اس کا نام بغاوت ہے نہ کہ جہاد۔اور عہد توڑنا اور نیکی کی جگہ بدی کرنا اور بے گناہوں کو مارنا اس حرکت کا مرتکب ظالم کہلاتا ہے نہ غازی۔۔۔خدا کا کلام ظالمانہ تلوار اٹھانے والوں کیلئے تلوار کی سزا بیان فرماتا ہے نہ کہ امین قائم کرنے والوں، رعیت پرور اور ہر ایک قوم کو آزادی کے حقوق دینے والوں کی نسبت سرکشی کی تعلیم کرتا ہے۔خدا کی کلام کو بدنام کرنا یہ بددیانتی ہے۔لہذا انسانوں کی بھلائی کے لئے یہ بات نہایت قرین مصلحت ہے کہ جناب قیصرہ ہند کی طرف سے اصلیت مذاہب شائع کرنے کے لئے جلسہ مذاہب ہو۔“ تحفہ قیصریه، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۲۸-۲۸۱) ہر ایک کی ہمدردی کرنا ہی انسانیت ہے آپ فرماتے ہیں کہ: وہ دین دین نہیں ہے جس میں عام ہمدردی کی تعلیم نہ ہو۔اور نہ وہ انسان انسان ہے جس میں ہمدردی کا مادہ نہ ہو۔ہمارے خدا نے کسی قوم سے فرق نہیں کیا۔مثلاً جو جو انسانی طاقتیں اور قو تیں آریہ ورت کی قدیم قوموں کو دی گئی ہیں۔وہی تمام قو تیں عربوں اور فارسیوں اور شامیوں اور چینیوں اور جاپانیوں اور یورپ اور امریکہ کی قوموں کو بھی عطا کی گئی ہیں سب کے لئے خدا کی زمین فرش کا کام دیتی ہے اور سب کے لئے اُس کا سورج اور چاند اور کئی اور ستارے روشن چراغ کا کام دے رہے ہیں اور دوسری خدمات بھی بجا لاتے ہیں۔اس کی پیدا کردہ عناصر یعنی ہوا اور پانی اور آگ اور خاک اور ایسا ہی اُس کی دوسری تمام پیدا کردہ چیزوں اناج اور پھل اور دوا وغیرہ سے تمام 43