اسلام اور آزادیء ضمیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 30 of 102

اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 30

عکرمہ کا سینہ اسلام کیلئے کھل گیا اور بے اختیار کہ اٹھا کہ اے محمد ( ﷺ ) آپ واقعی بے حد حلیم اور کریم اور صلہ رحمی کرنے والے ہیں۔رسول اللہ اللہ کے حسن خلق اور احسان کا یہ معجزہ دیکھ کر عکرمہ مسلمان ہو گیا۔( السيرة الحلبیہ، جلد سوم، صفحہ ۱۰۹۔مطبوعہ بیروت۔باب ذکر مغازية ﷺ۔فتح مکہ شرفها الله تعالی ) تو اسلام اس طرح حسن اخلاق سے اور آزادی ضمیر و مذہب کے اظہار کی اجازت سے پھیلا ہے۔حسن خلق اور آزادی مذہب کا یہ تیر ایک منٹ میں عکرمہ جیسے شخص کو گھائل کر گیا۔آنحضرت علی نے قیدیوں اور غلاموں تک کو یہ اجازت دی تھی کہ جو مذہب چاہو اختیار کرو۔لیکن اسلام کی تبلیغ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اسلام کی تعلیم کے بارہ میں بتاؤ کیونکہ لوگوں کو پتہ نہیں ہے۔یہ خواہش اس لئے ہے کہ یہ تمہیں اللہ کا قرب عطا کرے گی اور تمہاری ہمدردی کی خاطر ہی ہم تم سے یہ کہتے ہیں۔چنانچہ ایک قیدی کا ایک واقعہ اس طرح بیان ہوا ہے۔سعید بن ابی سعید بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول کریم ﷺ نے نجد کی طرف مہم بھیجی تو بنو حنیفہ کے ایک شخص کو قیدی بنا کر لائے جس کا نام شمامہ بن اثال تھا۔صحابہ نے اسے مسجد نبوی کے ستون کے ساتھ باندھ دیا۔رسول کریم ﷺہ اس کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ اے ثمامہ تیرے پاس کیا عذر ہے یا تیرا کیا خیال ہے کہ تجھ سے کیا معاملہ ہوگا۔اس نے کہا میر اظن اچھا ہے۔اگر آپ مجھے قتل کر دیں تو آپ ایک خون بہانے والے شخص کو قتل کریں گے اور اگر آپ انعام کریں تو آپ ایک ایسے شخص پر انعام کریں گے جو کہ احسان کی قدردانی کرنے والا ہے۔اور اگر آپ مال چاہتے ہیں تو جتنا چاہے لے لیں۔اس کے لئے اتنا مال اس کی قوم کی طرف سے دیا جا سکتا تھا۔یہاں تک کہ اگلا دن چڑھ آیا۔آپ یہ پھر تشریف لائے اور تمامہ سے پوچھا کیا ارادہ ہے۔چنانچہ ثمامہ نے عرض کی کہ میں تو کل ہی آپ سے عرض کر چکا تھا کہ اگر آپ انعام کریں تو آپ ایک ایسے شخص پر انعام کریں گے جو کہ احسان کی قدردانی کرنے والا ہے۔آپ ﷺ نے اس کو وہیں چھوڑا۔پھر تیسرا دن چڑھا پھر آپ اس کے پاس گئے آپ نے فرمایا اے ثمامہ تیرا کیا ارادہ ہے؟ اس نے عرض کی جو کچھ میں نے کہنا تھا وہ کہہ چکا ہوں۔آپ ﷺ نے فرمایا اسے آزاد کر دو۔تو تمامہ کو آزاد کر دیا گیا۔اس پر وہ مسجد کے قریب 30