اسلام اور آزادیء ضمیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 29 of 102

اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 29

آنحضرت ﷺ کے انصاف اور آزادی اظہار کے عدیم المثال معیار پھر اس دشمن اسلام کا واقعہ دیکھیں جس کے قتل کا حکم جاری ہو چکا تھا۔لیکن آپ نے نہ صرف اسے معاف فرمایا بلکہ مسلمانوں میں رہتے ہوئے اسے اپنے مذہب پر قائم رہنے کی اجازت آپ نے عطا فرمائی۔چنانچہ اس واقعہ کا ذکر یوں ملتا ہے کہ: ابوجہل کا بیٹا عکرمہ اپنے باپ کی طرح عمر بھر رسول اللہ ﷺ سے جنگیں کرتارہا۔فتح مکہ کے موقع پر بھی رسول کریم ﷺ کے اعلان عفو اور امان کے باوجود فتح مکہ کے موقع پر ایک دستہ پر حملہ آور ہوا اور حرم میں خونریزی کا باعث بنا۔اپنے جنگی جرائم کی وجہ سے ہی وہ واجب القتل ٹھہرایا گیا تھا۔لیکن مسلمانوں کے سامنے اس وقت کوئی نہیں ٹھہر سکا تھا۔اس لئے فتح مکہ کے بعد جان بچانے کیلئے وہ یمن کی طرف بھاگ گیا۔اس کی بیوی رسول اللہ ﷺ سے اس کی معافی کی طالب ہوئی تو آپ نے بڑی شفقت فرماتے ہوئے اسے معاف فرما دیا۔اور پھر جب وہ اپنے خاوند کو لینے کیلئے خودگئی تو عکرمہ کو اس معافی پر یقین نہیں آتا تھا کہ میں نے اتنے ظلم کئے ہوئے ہیں، اتنے مسلمان قتل کئے ہوئے ہیں ، آخری دن تک میں لڑائی کرتا رہا تو مجھے کس طرح معاف کیا جا سکتا ہے۔بہر حال وہ کسی طرح یقین دلا کر اپنے خاوند عکرمہ کو واپس لے آئی۔چنانچہ جب عکرمہ واپس آئے تو آنحضرت ﷺ کے دربار میں حاضر ہوئے اور اس بات کی تصدیق چاہی تو اس کی آمد پر رسول اللہ ﷺ نے اس سے احسان کا حیرت انگیز سلوک کیا۔پہلے تو آپ دشمن قوم کے سردار کی عزت کی خاطر کھڑے ہو گئے کہ یہ دشمن قوم کا سردار ہے اس لئے اس کی عزت کرنی ہے۔اس لئے کھڑے ہو گئے اور پھر مکرمہ کے پوچھنے پر فرمایا کہ واقعی میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے۔(موطا امام مالک، کتاب النکاح۔نکاح المشرک اذا اسلمت زوجته قبلۂ ) عکرمہ نے پھر پوچھا کہ اپنے دین پر رہتے ہوئے ؟ یعنی میں مسلمان نہیں ہوا۔اس شرک کی حالت میں مجھے آپ نے معاف کیا ہے، آپ نے مجھے بخش دیا ہے۔تو آپ نے فرمایا کہ ہاں۔اس پر 29