اسلام اور آزادیء ضمیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 28 of 102

اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 28

گا۔تو آپ نے فرمایا ٹھیک ہے چلو تمہاری رائے مان لیتے ہیں۔چنانچہ صحابہ چل پڑے اور وہاں پڑاؤ ڈالا۔تھوڑی دیر کے بعد قریش کے چند لوگ پانی پینے اس حوض پر آئے تو صحابہ نے روکنے کی کوشش کی تو آپ نے فرمایا: نہیں ان کو پانی لے لینے دو۔(السيرة النبوية لابن هشام جلد نمبر۲ صفحه ۲۸۴ ، غزوة بدر الكبرى مشورة الحباب على الرسول ) اسلام تلوار کے زور سے نہیں بلکہ حسن اخلاق اور آزادی ضمیر و مذہب کی تعلیم سے پھیلا ہے تو یہ ہے اعلیٰ معیار آنحضرت ﷺ کے اخلاق کا کہ باوجود اس کے کہ دشمن نے کچھ عرصہ پہلے مسلمانوں کے بچوں تک کا دانہ پانی بند کیا ہوا تھا۔لیکن آپ نے اس سے صرف نظر کرتے ہوئے دشمن کی فوج کے سپاہیوں کو جو پانی کے تالاب، چشمے تک پانی لینے کے لئے آئے تھے اور جس پر آپ کا تصرف تھا، آپ کے قبضے میں تھا، انہیں پانی لینے سے نہ روکا۔کیونکہ یہ اخلاقی ضابطوں سے گری ہوئی حرکت تھی۔اسلام پر سب سے بڑا اعتراض یہی کیا جاتا ہے کہ تلوار کے زور سے پھیلایا گیا۔یہ لوگ جو پانی لینے آئے تھے ان سے زبر دستی بھی کی جاسکتی تھی کہ پانی لینا ہے تو ہماری شرطیں مان لینا۔کفار کئی جنگوں میں اس طرح کرتے رہے ہیں۔لیکن نہیں ، آپ نے اس طرح نہیں فرمایا۔یہاں کہا جا سکتا ہے کہ ابھی مسلمانوں میں پوری طاقت نہیں تھی ، کمزوری تھی، اس لئے شاید جنگ سے بچنے کیلئے یہ احسان کی کوشش کی ہے۔حالانکہ یہ غلط بات ہے۔مسلمانوں کے بچہ بچہ کو یہ پتہ تھا کہ کفار مکہ مسلمانوں کے خون کے پیاسے ہیں اور مسلمان کی شکل دیکھتے ہی ان کی آنکھوں میں خون اتر آتا ہے۔اس لئے یہ خوش فہمی کسی کو نہیں تھی اور آنحضرت ﷺ کو تو اس قسم کی خوش فہمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔آپ نے تو یہ سب کچھ ، یہ شفقت کا سلوک سراپا رحمت ہونے اور انسانی قدروں کی پاسداری کی وجہ سے کیا تھا۔کیونکہ آپ نے ہی ان قدروں کی پہچان کی تعلیم دینی تھی۔28