اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 27
کو کچھ نہیں تھا، پینے کو کچھ نہیں تھا۔بچے بھی بھوک پیاس سے بلک رہے تھے کسی صحابی کو ان حالات میں اندھیرے میں زمین پر پڑی ہوئی کوئی نرم چیز پاؤں میں محسوس ہوئی تو اسی کو اٹھا کر منہ میں ڈال لیا کہ شاید کوئی کھانے کی چیز ہو۔یہ حالت تھی بھوک کی اضطراری کیفیت۔تو یہ حالات تھے۔آخر جب ان حالات سے مجبور ہو کر ہجرت کرنی پڑی اور ہجرت کر کے مدینہ میں آئے تو وہاں بھی دشمن نے پیچھا نہیں چھوڑا اور حملہ آور ہوئے۔مدینہ کے رہنے والے یہودیوں کو آپ کے خلاف بھڑ کانے کی کوشش کی۔ان حالات میں جن کا میں نے مختصر اذکر کیا ہے اگر جنگ کی صورت پیدا ہو اور مظلوم کو بھی جواب دینے کا موقع ملے ، بدلہ لینے کا موقع ملے تو وہ یہی کوشش کرتا ہے کہ پھر اس ظلم کا بدلہ بھی ظلم سے لیا جائے۔کہتے ہیں کہ جنگ میں سب کچھ جائز ہوتا ہے۔لیکن ہمارے نبی ﷺ نے اس حالت میں بھی نرم دلی اور رحمت کے اعلیٰ معیار قائم فرمائے۔مکہ سے آئے ہوئے ابھی کچھ عرصہ ہی گذرا تھا تمام تکلیفوں کے زخم ابھی تازہ تھے۔آپ کو اپنے ماننے والوں کی تکلیفوں کا احساس اپنی تکلیفوں سے بھی زیادہ ہوا کرتا تھا۔لیکن پھر بھی اسلامی تعلیم اور اصول وضوابط کو آپ نے نہیں توڑا۔جو اخلاقی معیار آپ کی فطرت کا حصہ تھے اور جو تعلیم کا حصہ تھے ان کو نہیں تو ڑا۔آج دیکھ لیں بعض مغربی ممالک جن سے جنگیں لڑ رہے ہیں ان سے کیا کچھ نہیں کرتے۔لیکن اس کے مقابلہ میں آپ کا اسوہ دیکھیں جس کا تاریخ میں، ایک روایت میں یوں ذکر ملتا ہے: جنگ بدر کے موقع پر جس جگہ اسلامی لشکر نے پڑاؤ ڈالا تھا وہ کوئی ایسی اچھی جگہ نہیں تھی۔اس پر حباب بن منذر نے آپ ﷺ سے دریافت کیا کہ جہاں آپ نے پڑاؤ ڈالنے کی جگہ منتخب کی ہے آیا یہ کسی خدائی الہام کے ماتحت ہے۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے یا یہ جگہ آپ نے خود پسند کی ہے؟ آپ کا خیال ہے کہ فوجی تدبیر کے طور پر یہ جگہ اچھی ہے؟ تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ یہ تو محض جنگی حکمت عملی کے باعث میرا خیال تھا کہ یہ جگہ بہتر ہے، اونچی جگہ ہے تو انہوں نے عرض کی کہ یہ مناسب جگہ نہیں ہے۔آپ لوگوں کو لے کر چلیں اور پانی کے چشمہ پر قبضہ کر لیں۔وہاں ایک حوض بنالیں گے اور پھر جنگ کریں گے۔اس صورت میں ہم تو پانی پی سکیں گے لیکن دشمن کو پانی پینے کے لئے نہیں ملے 27