اسلام اور آزادیء ضمیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 18 of 102

اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 18

دل آزاری کی جائے۔بہر حال اس کا مثبت رد عمل ہوا۔ایک مضمون بھی اخبار کو بھیجا گیا تھا جو اخبار نے شائع کر دیا۔ڈینیش عوام کی طرف سے بڑا اچھا رد عمل ہوا کیونکہ مشن میں بذریعہ فون اور خطوط بھی انہوں نے ہمارے مضمون کو کافی پسند کیا، پیغام آئے۔پھر ایک میٹنگ میں جرنلسٹ یونین کے صدر کی طرف سے شمولیت کی دعوت ملی۔وہاں گئے وہاں وضاحت کی کہ ٹھیک ہے تمہارا قانون آزادی ضمیر کی اجازت دیتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دوسروں کے مذہبی رہنماؤں اور قابل تکریم ہستیوں کو بنک کی نظر سے دیکھو اور ان کی ہتک کی جائے۔اور یہاں جو مسلمان اور عیسائی اس معاشرہ میں اکٹھے رہ رہے ہیں ان کے جذبات کا بہر حال خیال رکھنا ضروری ہے، کیونکہ اس کے بغیر امن قائم نہیں ہوسکتا۔پھر ان کو بتایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کس قدر حسین تعلیم ہے اور کیسا اسوہ ہے اور کتنے اعلیٰ اخلاق کے آپ مالک تھے اور کتنے لوگوں کے ہمدرد تھے، کس طرح ہمدرد تھے خدا کی مخلوق سے اور ہمدردی اور شفقت کے مظہر تھے۔چند واقعات جب ان کو بتائے کہ بتاؤ کہ جو ایسی تعلیم والا مشخص اور ایسے عمل والا شخص ہے اس کے بارہ میں اس طرح کی تصویر بنانی جائز ہے؟ تو جب یہ باتیں ہمارے مشنری کی ہو ئیں تو انہوں نے بڑا پسند کیا بڑا اسراہا۔اور ایک کارٹونسٹ نے برملا یہ اظہار کیا کہ اگر اس طرح کی میٹنگ پہلے ہو جاتی تو وہ ہرگز کارٹون نہ بناتے ، اب انہیں پتہ چلا ہے کہ اسلام کی تعلیم کیا ہے۔اور ساروں نے اس بات کا اظہار کیا کہ ٹھیک ہے ڈائیلاگ (Dialogue) کا سلسلہ چلتا رہنا چاہئے۔پھر صدر یونین کی طرف سے بھی پریس ریلیز جاری کی گئی جس کا مسودہ بھی سب کے سامنے سنایا گیا اور ٹی وی پر انٹرویو ہوا جو بڑا اچھا رہا۔پھر منسٹر سے بھی میٹنگ کی۔تو بہر حال جماعت کوشش کرتی ہے۔دوسرے ملکوں میں بھی اس طرح ہوا ہے۔تو بہر حال جہاں بنیاد تھی وہاں جماعت نے کافی کام کیا ہے۔اور کارٹون کی وجہ جو بنی ہے وہ یہ ہے کہ ڈنمارک میں ایک ڈینش رائٹر نے ایک کتاب لکھی ہے، اس کا ترجمہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور قرآن جو مارکیٹ میں آچکی ہے۔اس کتاب والے نے کچھ تصویر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بنا کر بھیجنے کو کہا تھا تو بعضوں نے بنائیں۔18