اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 10
آپ کا جو بڑ المباعربی قصیدہ ہے، اُس کے کچھ شعر ہیں کہ: قَوْمٌ رَأَوْكَ وَأُمَّةٌ قَدْ أُخْبِرَتْ مِنْ ذَالِكَ الْبَدْرِ الَّذِي أَصْبَانِيْ کہ ایک قوم نے تجھے دیکھا ہے اور ایک امت نے خبر سنی ہے، اُس بدر کی جس نے مجھے اپنا عاشق بنایا۔يَبْكُوْنَ مِنْ ذِكْرِ الْجَمَالِ صَبَابَةً وَ تَأَلُّمًا مِّنْ لَوْعَةِ الْهِجْرَانِ وہ تیرے حسن کی یاد میں بوجہ عشق کے روتے ہیں اور جدائی کی جلن کے دُکھ اُٹھانے سے بھی روتے ہیں۔وَأَرَى الْقُلُوْبَ لَدَى الْحَنَاجِرَ كُرْبَةً وَأَرَى الْغُرُوبَ تُسِيْلُهَا الْعَيْنَانِ اور میں دیکھتا ہوں کہ دل بیقراری سے گلے تک آگئے ہیں اور میں دیکھتا ہوں کہ آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں۔یہ قصیدہ بہت ساروں کو بلکہ اب تو ہمارے بچوں کو بھی یاد ہے۔اور اس لمبے قصیدہ کا آخری شعر یہ ہے کہ ) جسْمِيْ يَطِيْرُ إِلَيْكَ مِنْ شَوْقٍ عَلَا يَا لَيْتَ كَانَت قُوَّةُ الطَّيَرَانِ کہ میرا جسم تو شوق غالب سے تیری طرف اُڑنا چاہتا ہے۔اے کاش میرے اندراڑنے کی طاقت ہوتی۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۵۹۰-۵۹۴) پس ہمیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت کے یہ سبق سکھائے گئے ہیں اور یہ دنیا دار کہتے ہیں کہ کیا فرق پڑتا ہے؟ ہلکا پھلکا مذاق ہے۔جب اخلاق اس حد تک گر جاتے ہیں کہ اخلاق کے معیار بجائے اونچے جانے کے پستیوں کو چھونے لگیں تو تبھی دنیا کے امن بھی برباد ہوتے ہیں۔۔۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا ہے، ہمارا کام ہے کہ زیادہ سے زیادہ کوشش کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مختلف پہلوؤں کو دنیا کے سامنے پیش کریں۔اس کے لئے مختصر اور بڑی جامع کتاب Life of Muhammad یا دیباچہ تفسیر القرآن کا سیرت والا حصہ ہے، اس کو ہر احمدی کو پڑھنا 10