اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 3
میں ہے، اُن کے دل میں ہے اور اس محبت کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مسلمان کے دل میں ہے، تم نہیں سمجھ سکتے۔میں نے اُسے بتایا کہ میں نے فلم تو نہیں دیکھی لیکن ایک دو باتیں جس دیکھنے والے نے مجھے بتائی ہیں، وہ نا قابل برداشت ہیں اور تم کہتے ہو ایسی کوئی بات نہیں ہے۔یہ باتیں سن کر تو میں کبھی فلم دیکھنے کی جرات بھی نہیں کر سکتا۔اس میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں، ان کو سن کر ہی خون کھولتا ہے۔میں نے اُسے کہا کہ تمہارے باپ کو اگر کوئی گالی دے، برا بھلا کہے، بیہودہ باتیں کہے تو اُس کے متعلق تمہارا رد عمل کیا ہو گا؟ تم دکھاؤ گے رد عمل؟۔یہ بتاؤ گے کہ ٹھیک ہے کہ نہیں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام تو ایک مسلمان کی نظر میں اس سے بہت بلند ہے، اس جگہ تک کوئی پہنچ نہیں سکتا۔۔۔یہ لوگ تو اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہے اور نہ آئیں گے۔عمومی طور پر مسلمان جو رد عمل دکھارہے ہیں، اس کو لے کر لگتا ہے کہ یہ لوگ ہمارے دلوں کو مزید زخمی کرنے کے درپے ہیں۔اپنی خبیثانہ حرکتوں کو ایک ملک سے دوسرے ملک میں پھیلاتے چلے جارہے ہیں۔اب دو دن پہلے پین کے کسی اخبار نے بھی یہ خاکے بنائے تھے اور شائع کئے ہیں اور یہ کہا ہے کہ یہ تو مذاق ہے اور یہ مسلمانوں کے رد عمل کا جواب بھی ہے۔پس ہمیں ان لوگوں کا منہ بند کرنے کے لئے اور کم از کم شرفاء اور پڑھے لکھے لوگوں کو بتانے کے لئے بھر پور کوشش کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ غلط طریق دنیا کا امن برباد کر رہا ہے، تا کہ جس حد تک ممکن ہو ان کے ظالمانہ رویے کی حقیقت سے ہم دنیا کو آگاہ کر سکیں۔۔۔۔ملکہ وکٹوریہ کی جب ڈائمنڈ جوبلی ہوئی تھی تو اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تحفہ قیصریہ کے نام سے کتاب لکھ کر ملکہ کو بھجوائی تھی جس میں جہاں ملکہ کی انصاف پسند حکومت کی تعریف کی تھی وہاں اسلام کا پیغام بھی پہنچایا تھا اور دنیا میں امن کے قیام اور مختلف مذاہب کے آپس کے تعلقات اور مذہبی بزرگوں اور انبیاء کی عزت واحترام کی طرف بھی توجہ دلائی تھی۔اور یہ بھی تفصیل سے 3