اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 93
عیسائیوں کو ان کے مذہب، اُن کے پادریوں ، لاٹ پادریوں اور راہبوں اور اُن کے گرجا گھروں کو اپنی جاگیر پر پُر امن طور سے رہنے دیا۔“ (Godfrey Higgins۔Apology for Mohammed۔Lahore۔pp۔123-4 (1829)) پھر یہی Godfrey Higgins آگے لکھتے ہیں کہ: خلفائے اسلام کی تمام تر تاریخ میں انکوزیشن (Inquisition) جیسی بدنام چیز سے نصف سے بھی کم بد نام چیز ہمیں نہیں ملتی۔کوئی ایک واقعہ بھی کسی کو مذہبی اختلاف کی بنا پر جلا دینے یا کسی کو محض اس وجہ سے موت کی سزا دینے کا نہیں ہوا کہ مذہب اسلام کو قبول کیوں نہیں کرتا ؟“ (ایضاً صفحہ 52) ایڈورڈ گین (Edward Gibbon) اپنی کتاب History of the Saracen Empire میں لکھتے ہیں کہ : " آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے مذہب کی تبلیغ کے بجائے اُس کا دوام ہماری حیرت کا موجب ہے۔حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے مکہ اور مدینہ میں جو خالص اور مکمل نقش جمایا وہ بارہ صدیوں کے انقلاب کے بعد بھی قرآن کے انڈین، افریقی اور ترک نو معتقدوں نے ابھی تک محفوظ رکھا ہوا ہے۔مریدان محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے مذہب اور عقیدت کو ایک انسان کے تصور سے باندھنے کی آزمائش اور وسوسے کے مقابل پر ڈٹے رہے۔اسلام کا سادہ اور نا قابل تبدیل اقرار یہ ہے کہ میں ایک خدا اور خدا کے رسول محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر ایمان لاتا ہوں۔خدا کی یہ ذہنی تصویر بگڑ کر مسلمانوں میں کوئی قابلِ دید ہت نہیں بنی۔پیغمبر اسلام کے اعزازات نے انسانی صفت کے معیار کی حدود سے تجاوز نہیں کیا اور ان کے زندہ فرمودات نے ان کے پیروکاروں کے شکر اور جذبہ احسان کو عقل اور 93 33