مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 81 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 81

اور وہ اگرچہ اپنے وطنوں میں ہیں۔لیکن ہر ایک حرکت اور سکون میں ان کے دل ہمارے ساتھ ہیں اوروہ مال سے محض خدا کو راضی کرنے کے لئے مدد دیتے ہیں اور مَیں ارادہ کرتا ہوں اگر خدا تعالیٰ کا بھی ارادہ ہو کہ اس منارہ کے کسی مناسب پہلو میں ان مہاجرین کے نام لکھوں۔جنہوں نے محض خدا کے لئے یہ دُکھ اپنے اُوپر لیا کہ اپنے پیارے وطنوں کو چھوڑ کر ایک خدا کے مامور کا قرب مکانی حاصل کرنے کے لئے قادیان میں سکونت اختیار کر لی اور ایسا ہی ان انصار کے نام بھی جنہوں نے اپنی خدمت اور نصرت کو انتہا تک پہنچایا اور میرا نورِ قلب مجھے اس وقت اس بات کی طرف تحریک کرتا ہے جو ایسے مبارک کام کے لئے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشگوئی پوری ہوتی ہے اپنی مخلص جماعت کو اس مالی مدد کی تکلیف دوں جو مومن کے لئے جنت کو واجب کرتا ہے۔پس مَیں اسی غرض سے چند مخلـصین کے نام ذیل میںلکھتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ ہر ایک ان میں سے کم سے کم ایک سو روپیہ اس عظیم الشان کام کے لئے پیش کرے۔اور مَیں خوب جانتا ہوں کہ اگر انسان بے ہودہ عذرات کی طرف مائل نہ ہوتو اس قدر رقم ان لوگوں کے لئے کچھ مشکل نہیں جو چالیس یا پچاس یا اس سے زیادہ آمدنی رکھتے ہیں۔مثلاً عورتوں کا زیور ہی ایک ایسی چیز ہے کہ اگر صدق دل ہو تو اس میں سے کچھ ایسے کام کے لئے آسکتا ہے۔بلکہ دیکھا گیاہے کہ جب نیک بخت عورتیں اپنے دیندار خاوندوں اور باپوں اور بھائیوں کے مُنہ سے ایسی باتیں سُنتی ہیں تو خود ان کا ایمانی جوش حرکت کرنے لگتا ہے۔اور بسا اوقات اپنے خاوندوں کے حوصلہ سے زیادہ ایک رقم کثیر پیش کر دیتی ہیں۔بلکہ بعض عورتیں بعض مردوں سے صد ہا درجے اچھی ہوتی اور موت کو یاد رکھتی ہیں۔وہ خوب جانتی ہیںکہ جبکہ کبھی کبھی اس زیور کو چور لے جاتے ہیں یا کسی اور طریق سے تباہ ہو جاتا ہے۔تو پھر اس سے بہتر کیاہے کہ اس خدا کے لئے جس کی طرف عنقریب کوچ کرنا ہے۔کوئی حصہ زیور کا خرچ کیا جائے۔آخر یہ کام اسی جماعت نے کرنا ہے۔اور دوسرے لوگ اس میں شریک نہیں ہو سکتے وہ تو اَور خیالات میں مبتلا ہیں۔